WaQaS DaR

Administrators
  • Content Count

    601
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Everything posted by WaQaS DaR

  1. Qurbato k barf khano mai raha ik aztaraab. Hijer ky atish kadon mai ik sakoon hasil raha. click here to see more picture at fundayforum.com
  2. click here to see more picture at fundayforum.com
  3. Koi amdaadi na aya doobne wale k pass.. Ik hajoom e dostaan yun tu saare sahil raha,, click here to see more picture at fundayforum.com
  4. Kab meri takhreeb mai tera taghafil th shareek.. Kab teri taameer mai mera laho shamil raha... click here to see more picture at fundayforum.com
  5. Hum safar wasif ali , Gard e safar mai rah gaye... Mujh ko ahsaas e nadamat yun saare munzil raha... click here to see more picture at fundayforum.com
  6. Doostoon ny phair li jab se nigah e iltifaat... Mehrbaan hu ker mere gher mai mera qatil raha click here to see more picture at fundayforum.com
  7. Dil k bojhte hi chiragh e anjuman khamosh th ... Dil jala jab tak, bara hangama mahfil raha ... click here to see more picture at fundayforum.com
  8. WaQaS DaR

    khushi ka shikaar

    جال میں آ گئے ہیں غم کتنے اک خوشی کا شکار کرتے ہوئے click here to see more picture at fundayforum.com
  9. Mere sare rishtedar le lo.. or plastic k 6 glass de do. click here to see more picture at fundayforum.com
  10. تارے ویکھن بیہہ جاندی اے جھلی جہی تارے ویکھن بیہہ جاندی اے جھلی جہی کلّم کلّی رہ جاندی اے جھلی جہی توں محرم تے توں ای غیر، پرایا ایں کیہ کج مینوں کہہ جاندی اے جھلی جہی اُس دا مکھڑا درداں رج سجایا اے دکھڑے سارے سہہ جاندی اے جھلی جہی جیڑھی گل میں سُنن میں جاواں اوہ چھڈ کے ساریاں گلّاں کہہ جاندی اے جھلّی جہی تیری یاد دی کوئل میریاں سوچاں دی کندھاں اُتّے بیہہ جاندی اے جھلی جہی چھڈ دیندی ہے جد وہ کملی ہتھ میرا راہواں دے وچ ڈیہہ جاندی اے جھلی جہی انج تے دکھڑے مُکنے دا نئیں ناں لیندے دکھاں دے نل کھیہ جاندی اے جھلّی جہی مینوں تے اوہ اگّے لائی رکھدی اے آپے پچھے رہ جاندی اے جھلّی جہی اک واری جے اداسی آ جاوے روح دے اندر بیہہ جاندی اے جھلّی جہی Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  11. تیڈے نین چُماں ، کونین چُماں مَیڈے وَس ہووے میں وَس پوواں، تیڈے پندھ چُماں، تیڈے پیر چُماں تیڈے راہ دی دُھوڑ دَھمال چُماں تیڈے نین چُماں ، کونین چُماں وِچ وسدی مُونجھ ملال چُماں تیڈے رنگ چُماں،تیڈی ونگ چُماں تیڈیں پَلکیں دی پَنڑِیال چُماں تیڈے سر دا ہک ہک وال چُماں چُم ڈیکھاں سِیندھ سَیندور بھری تیکوں بَنڑ کے "باکروال" چُماں مَیڈی لُوں لُوں لُہندی لَمس تیڈا نَس نَس دے ڈیوے بال چُماں مَیڈی لُوں لُوں لَکھ لَکھ لَب ھُوون بے اَنت لَباں دے نال چُماں Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  12. سہمی ہوئی ہے جھونپڑی بارش کےخوف سے محلوں کی آرزو ہے کہ ....... برسات تیز ہو Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  13. جیسا بھی مل گیا ہمیں ویسا پہن لیا دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا پیرہن جیسا بھی مل گیا ہمیں ویسا پہن لیا فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا بیدل لباسِ زیست بڑا دیدہ زیب تھا اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  14. جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ سورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ کاغذ کی کترنوں کو بھی کہتے ہیں لوگ پھول رنگوں کا اعتبار ہی کیا سونگھ کے بھی دیکھ ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ دشمن ہے رات پھر بھی ہے دن سے ملی ہوئی صبحوں کے درمیان ہیں جو فاصلے بھی دیکھ عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ اس کی شکست ہو نہ کہیں تیری بھی شکست یہ آئنہ جو ٹوٹ گیا ہے اسے بھی دیکھ تو ہی برہنہ پا نہیں اس جلتی ریت پر تلووں میں جو ہوا کے ہیں وہ آبلے بھی دیکھ بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ کیا شاخ با ثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو نظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  15. عشق آفت ، عشق آتش عشق آفت ، عشق آتش ، عشق مطلوبِ خدا عشق مجنوں ، عشق لیلٰی، عشق فریاد و صدا عشق باطن ، عشق ظاہر ، عشق تمثیلِ الٰہ عشق ساکن ، عشق جاری ، عشق ہمنام خدا عشق باقی ، عشق ساقی ، عشق معنٰئ عطا عشق فرہاد ، عشق شیریں ، عشق بارانِ شفا عشق طاقت ، عشق طلعت ، عشق تاثیرِ حیا عشق جلنا ، عشق مرنا ، عشق دردوں کی دوا عشق مالک ، عشق صاحب ، عشق انوارِ خدا عشق اوّل ، عشق آخر ، عشق ساحل باخدا Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  16. تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے ویراں ہو رہ گزارِحیات جیسے خوابوں کے رنگ پھیکے ہوں جیسے لفظوں سے موت رِستی ہو جیسے سانسوں کے تار بکھرے ہوں جیسے نو حہ کناں ہو صبح چمن تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے خوشبو نہیں ہو کلیوں میں جیسے سُونا پڑا ہو شہرِ دل جیسے کچھ بھی نہیں ہو گلیوں میں جیسے خوشیوں سے دشمنی ہو جائے جیسے جذبوں سے آشنائی نہ ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے اک عمر کی مسافت پر بات کچھ بھی سمجھ نہ آئی ہو جیسے چپ چپ ہوں آرزو کے شجر جیسے رک رک کے سانس چلتی ہو جیسے بے نام ہو دعا کا سفر جیسے قسطوں میں عمر کٹتی ہو تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے جیسے اک خوف کے جزیرے میں کوئی آواز دے کے چھپ جائے جیسے ہنستے ہوئے اچانک ہی غم کی پروا سے آنکھ بھر جائے تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  17. تتلیوں کی بے چینی تتلیوں کی بے چینی آ بسی ہے پاؤں میں ایک پَل کو چھاؤں میں اور پھر ہَواؤں میں جن کے کھیت اور آنگن ایک ساتھ اُجڑتے ہیں کیسے حوصلے ہوں گے اُن غریب ماؤں میں صورتِ رفو کرتے سر نہ یوں کھُلا رکھتے جوڑ کب نہیں ہوتے ماؤں کی رداؤں میں آنسوؤں میں کٹ کٹ کر کتنے خواب گرتے ہیں اِک جوان کی میّت آ رہی ہے گاؤں میں اب تو ٹوٹی کشتی بھی آگ سے بچاتے ہیں ہاں کبھی تھا نام اپنا بخت آزماؤں میں ابر کی طرح ہے وہ یوں نہ چھُو سکوں لیکن ہاتھ جب بھی پھیلائے آ گیا دعاؤں میں جگنوؤں کی شمعیں بھی راستے میں روشن ہیں سانپ ہی نہیں ہوتے ذات کی گپھاؤں میں صرف اِس تکبُّر میں اُس نے مجھ کو جیتا تھا ذکر ہو نہ اس کا بھی کل کو نا رساؤں میں کوچ کی تمنّا میں پاؤں تھک گئے لیکن سمت طے نہیں ہوتی پیارے رہنماؤں میں اپنی غم گُساری کو مشتہر نہیں کرتے اِتنا ظرف ہوتا ہے درد آشناؤں میں اب تو ہجر کے دُکھ میں ساری عُمر جلنا ہے پہلے کیا پناہیں تھیں مہرباں چتاؤں میں ساز و رخت بھجوا دیں حدِّ شہر سے باہر پھر سُرنگ ڈالیں گے ہم محل سراؤں میں Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  18. خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ، وحشت سے بربریّت سے امن، تہذیب و ارتقا کے لئے جنگ، مرگ آفریں سیاست سے امن، انسان کی بقا کے لئے جنگ، افلاس اور غلامی سے امن، بہتر نظام کی خاطر جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے امن، بے بس عوام کی خاطر جنگ، سرمائے کے تسلّط سے امن، جمہور کی خوشی کے لئے جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف امن، پُر امن زندگی کے لئے (ساحر لدھیانوی) Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  19. Fazal Din Pharmacy | Dc Road, Gujranwala Near Al-noor Shopping Center Dc Road Fre Home Delivery 24 Hourrs Services Contact Number: +92-55-3823642 Email: fazaldindcroadgrw@gmail.com click here to see more picture at fundayforum.com
  20. وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے پتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم ساز یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں اس دشت بلا میں نہ سمجھ خود کو اکیلا میں چوب کی صورت ترے خیمے میں گڑی ہوں پھولوں پہ برستی ہوں کبھی صورت شبنم بدلی ہوئی رت میں کبھی ساون کی جھڑی ہوں Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  21. مُحبت یَاد رَکھتـــــی ہے مُحبت خُود بَتاتـــــــــی ہے کَـــہاں کِس کَا ٹِھکَانـــہ ہے کِسے آنکھوں میں رَکھنا ہے کِسے دِل مِیں بَــــــــسانا ہے رِہا کَرنا ہے کِـــــس کو کِسے زَنجیر کَــــرنا ہے مِٹَانا ہـے کِسے دِل سے کِسے تِحرِیر کَـــرنا ہے گَھرَوندَا کَب گِرَانا ہے کَـــہاں تَعمِیر کَرنا ہے اِسے مَعــــلوم ہَوتا ہے سَفر دُشـــوَار کِتنا ہے کِسی کی چَشمِ گِریہٴ میں چُھپا اِقــــــــــــرَار کِتنا ہے شَجر جَو گــــــِرنے وَالا ہے وُہ سَایــــــــــہ دَار کِتنا ہے سَفر کـی ہَر صَعوبَت اور تَمازَت یَاد رَکھتِــــــی ہے جِسے ســَارے بُھلا ڈَالیں مُحبت یَاد رَکھتـــــی ہے Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  22. بھوک و افلاس ....کی ماری ہوئی اس دنیا میں عشق ہی صرف حقیقت نہیں ، کچھ اور بھی ہے Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  23. تم کو وحشت تو سکھا دی ہے تم کو وحشت تو سکھا دی ہے، گزارے لائق اور کوئی حکم،؟ کوئی کام،؟ ہمارے لائق،؟ معذرت! میں تو کسی اور کے مصرف میں ہوں ڈھونڈ دیتا ہوں مگر کوئی،،،،،،،، تمہارے لائق ایک دو زخموں کی گہرائی اور آنکھوں کے کھنڈر اور کچھ خاص نہیں مجھ میں،،،،،،، نظارے لائق گھونسلہ، چھاؤں، ہرا رنگ، ثمر، کچھ بھی نہیں دیکھ،،،،،، مجھ جیسے شجر ہوتے ہیں آرے لائق دو وجوہات پہ،،،،،،، اس دل کی اسامی نہ ملی ایک-> درخواست گزار اتنے؛ دو-> سارے لائق اس علاقے میں اجالوں کی جگہ کوئی نہیں صرف پرچم ہے یہاں،،،،، چاند ستارے لائق مجھ نکمے کو چنا اس نے ترس کھا کے ! دیکھتے رہ گئے حسرت سے، بچارے لائق Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  24. میرے بے خبر تُجھے کیا پتا تيری آرزوں کے دوش پر تيری کيفِيت کے جام میں میں جو کِتنی صديوں سے قید ہوں تيرے نقش میں، تيرے نام میں میرے زاِئچے، میرے راستے میرے ليکھ کی یہ نِشانِياں تيری چاہ میں ہیں رُکی ہوئی کبھی آنسوں کی قِطار میں کبھی پتھروں کے حِصار میں کبھی دشتِ ہجر کی رات میں کبھی بدنصيبی کی گھاٹ میں کئی رنگ دھوپ سے جل گئے کئی چاند شاخ سے ڈھل گئے کئی تُن سُلگ کے پگھل گئے تيری اُلفتوں کے قیام میں تيرے درد کے در و بام میں کوئی کب سے ثبتِ صليب ہے تيری کائنات کی رات میں تيرے اژدھام کی شام میں تُجھے کیا خبر تُجھے کیا پتا میرے خواب ميری کہانیاں میرے بے خبر تُجھے کیا پتا !!!!! [gallery640x480] [photo=https://i.imgflip.com/2ahvbo.jpg]Sad Boy[/photo] [photo=https://www.storemypic.com/images/2016/11/23/where-are-you-sad-db126.gif]Where are you[/photo] [photo=https://encrypted-tbn0.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcTGYjRG46MgKWl5uZLiwFciUJes0_Jlc6mQ_9JA_U-6xdYdLt3K]Sad Urdu Poetry[/photo] [/gallery] Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  25. عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا جو میری آنکھ سے ٹپکا، تیرا آنسو ہو گا ایک پَل کو تیری یاد آئے تو مَیں سوچتا ہوُں خواب کے دشت میں بھٹکا ہوُا آہُو ہو گا تجھ کو محسوس کروں، مس نہ مگر کر پاؤں کیا خبر تھی کہ تو اِک پیکرِ خوشبو ہو گا اب سمیٹا ہے تو پھر مُجھ کو ادھُورا نہ سمیٹ زیرِ سر سنگ نہ ہو گا، میرا بازُو ہو گا مجھ کو معلوُم نہ تھی ہجر کی یہ رمز، کہ توُ جب میرے پاس نہ ہو گا تو ہر سُو ہو گا اِس توقّع پہ مَیں اب حشر کے دن گِنتا ہوُں حشر میں، اور کوئی ہو کہ نہ ہو، تُو ہو گا احمد ندیم قاسمی Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)