WaQaS DaR

Administrators
  • Content count

    530
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

WaQaS DaR last won the day on October 30 2016

WaQaS DaR had the most liked content!

Community Reputation

1 Neutral

About WaQaS DaR

  • Rank
    Advanced Member
  • Birthday 03/08/1981

Recent Profile Visitors

1,790 profile views
  1. Hello guys this is my first post Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  2. بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں کیوں کر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں کیوں یاد نہ رکّھوں تجھے اے دُشمنِ پنہاں! آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا کہنے کو تو اِس دور میں انسان بہت ہیں اللہ ! اِسے پار لگائے تو لگائے کشتی مِری کمزور ہے طوفان بہت ہیں دیکھیں تجھے، یہ ہوش کہاں اہلِ نظر کو تصویر تِری دیکھ کر حیران بہت ہیں ارمانوں کی اِک بھیڑ لگی رہتی ہے دن رات دل تنگ نہیں، خیر سے مہمان بہت ہیں یُوں ملتے ہیں، جیسے نہ کوئی جان نہ پہچان دانستہ نصیرؔ آج وہ انجان بہت ہیں Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  3. Wasif ali Wasif Poetry click here to see more picture of poetry at fundayforum.com
  4. شکوہ جوابِ شکوہ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس وحشتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ جان لیوا دہشتیں ہیں عشق میں دیکھا جو میں نے جھانک کر حیرت کدوں میں بارہا دیکھی نہیں ہیں باخدا جو حیرتیں ہیں عشق میں ان کی حزینِ داستاں سن کر بڑا ہی دکھ ہوا ساری کی ساری لٹ گئیں جو راحتیں ہیں عشق میں وعدہ وفا کی آڑ میں کرتے رہے بیوپار جو ہیں تخمِ ناہنجار لوٹیں عصمتیں ہیں عشق میں بے چینیوں کا طبل بجتا ہی رہا دل میں مرے یہ جھوٹ ہے کہتے ہیں جو کہ راحتیں ہیں عشق میں مقتل میں جا کے روٹھ بیٹھے ہیں مرے ارمانِ دل پالا تھا ہم کو شوق سے کہ چاہتیں ہیں عشق میں ان کی جفاوؑں کا صنم جب بھی ہوا ہے تذکرہ دلبر گماں ہوتا رہا بس نفرتیں ہیں عشق میں جوابِ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس راحتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ یار کی بس چاہتیں ہیں عشق میں حیرت کدوں میں جھانک کر دیکھا تو ہے تُو نے صنم حیران ہے جن سے جہاں وہ حاجتیں ہیں عشق میں کہتے نہیں اس کو حزیں یہ دلبری شیوہ نہیں دلدار پر کردو فدا جو راحتیں ہیں عشق میں بیوپار جو کرتے رہے جسموں پہ وہ مرتے رہے نفسِ طلب کی باخدا کب حاجتیں ہیں عشق میں دلدار کو دلدار سے فرصت کبھی ملتی نہیں اک پل قضا ہوتا نہیں وہ ساعتیں ہیں عشق میں پالا ہے جن کو شوق سے میرے جنونِ عشق نے ارمانِ دل وہ آج سارے قربتیں ہیں عشق میں جب بھی وصالِ یار کا دلبر گماں ہوتا رہا کامل یقیں ہوتا رہا کہ صحبتیں ہیں عشق میں Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  5. گناہ زانیوں کے پاس نئی نئی دلیلیں ہیں نئے نئے الفاظ ہیں بے شمار جواز ہیں بدلتے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر یہ نئے قصے سناتے ہیں سوچ کے نئے زاویے تلاش کرتے ہیں اضطراب کا ایک ہی حل سوچتے ہیں بدبودار لمحات کو بستر کی سلو ٹوں میں سوۓ پوشیدہ تجربات کو شراب کے بُو میں گھول لیتے ہیں پھر اسُ لمحے تھوڑ ا سا سچ بھی بول لیتے ہیں گزرے لذت آشنا تجربات کا بھید بھی کھول لیتے ہیں کسی نئے بدن کی خوشبو میں گمُ میقاس الشباب سے پُر کیف لمحات تک شراب کے جام سے ناف تک راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں دلدل میں اُترتے قدموں کے واسطے کوئی جواز بھی سوچ لیتے ہیں حوا کے بیٹے بنت ِ حوا سے کھیل لیتے ہیں ۔۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  6. غزل دیواروں پہ کیا لکھا ہے شہر کا شہر ہی سوچ رہا ہے غم کی اپنی ہی شکلیں ہیں درد کا اپنا ہی چہرہ ہے عشق کہانی بس اتنی ہے قیس کی آنکھوں میں صحرا ہے کو زہ گر نے مٹی گوندھی چاک پہ کوئی اور دھرا ہے عنبر تیرے خواب ادھورے تعبیروں کا بس دھوکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  7. کوئی دھوپ چھاؤں کا موسم ہو. اور مدھم مدھم بارش ہو💕 ہم گہری سوچ میں بیٹھے ہوں سوچوں میں سوچ تمھاری ہو💕 اُس وقت تم ملنے آجاؤ اور خوشی سے پلکیں بھاری ہو💕 ہم تم دونوں خاموش رہیں اور زباں پہ آنکھیں ہاوی ہو💕 تم تھام لو میرے ہاتھوں کو اور لفظ زباں سے جاری ہوں💕 میں تم سے محبت کرتی ہوں اور جذبوں میں سرشاری ہو💕 ہاتھوں کی لیکریں مل جائیں سنگ چلنے کی تیاری ہو💕 سب خوابوں کو تعبیر ملے اور ہم پر خوشیاں واری ہو💕 کوئی دھوپ چھاؤں کا موسم ہو اور مدھم مدھم بارش ہو💕 Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  8. تم ابرِ گریزاں ہو میں صحرا کی مانند ہوں دو بوند جو برسو گے بے کار میں برسو گے ہے خشک بہت مٹی ہر سمت بگولے ہیں صحرا کے بگولوں سے اٹھتے ہوئے شعلے ہیں تم کھل کہ اگر برسو تو صحرا میں گلستاں ہو پر تم سے کہیں کیسے تم ابرِ گریزاں ہو جل تھل جو اگر کر دو تن من میں نمی بھر دو ہے خشک بہت مٹی پوری جو کمی کر دو پھر تم کو بتائیں گے تم میری محبت ہو لیکن تم تو ابرِ گریزاں ہو اور میں صحرا کی مانند ہوں تم ابرِ گریزاں ہو تم ابرِ گریزاں ہو Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  9. کتاب ِ عمر کے دلگیر باب میں مجھے مل یا میری نیند میں آ اپنے خواب میں مجھے مل مرے گماں پہ اتر پھر حنا کا رنگ لیے پھر اپنے بالوں کے دلکش گلاب میں مجھے مل مل ایک بار مجھے وقت کی حدوں سے پرے مل ایک بار تو اپنی جناب میں مجھے مل خدا کے ہونے کی تو بھی تو اک نشانی ہے کسی بھی رنگ کسی بھی حجاب میں مجھے مل بگُولہ بن کے ترے اِرد گِرد پھرنے لگوں کبھی تو دشت میں آ اور سراب میں مجھے مل سکوت ِ ذات سے چٹخے سماعتوں کے بدن کسی صدا کے چھلکتے حباب میں مجھے مل خرد خمیر ہوں حیرت کے باب میں مجھے چُن جنوں طلسم کی نمکیں شراب میں مجھے مل Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  10. My State of Mind" In the midst of a serious fight, I get reminded of this transcient life. Why do I coddle my ego and pride? Why do I hesitate to tell, they are my truest delight? I wanted to come forward. To express my love, apologise for my mistakes and let them know how much they are meant! But, then and there only, ‘Why me’ and ‘why can’t they’ was the question I posed to myself, And it instantly changed my mind. To choose between love and pride became a plight. And this is how I lost the most important battles of my life. Oh! I regret, I had time… but… I missed… A thousand occasions, I left, Thinking that a thousand more I will get. But life is not always the same, And now I deserve to be blamed. I wasted years thinking that I am selfish, This feeling of regret cannot be replenished. I then, made a promise to repent for my mistakes, To choose love and prevent all sort of heart aches. I started putting my emotions naked to the people I loved, And what they did? Took advantage of it, made me realise I am not their worth. Repent, Repent, Repent and Remorse! © Sadiya Jalal Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  11. مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں لاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیں خود فریبی ہی سہی کیا کیجئے دل کا علاج تو نظر پھیرے تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں ایک دنیا منتظر ہے اور تیری بزم میں اس طرح بیٹھے ہیں ہم جیسے کہیں جانا نہیں جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں احمد فراز Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  12. نفع کی صورت ہؤا ، جتنا بھی خمیازہ ہؤا ، غم سہا جاتا ہے کیسے، ہم کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ زندگی درویش کی مانند ہی میں نے کاٹ دی جب سے مجھ پہ بند اُس کے گھر کا دروازہ ہؤا ۔۔۔ موسمٍ گل! تیرا آنا بھی سزا سے کم نہیں ، وقت نے جو بھر دیا تھا ، زخم پھر تازہ ہؤا ۔۔۔ فکر کا سیاح میرے جیتے جی لوٹا نہیں ، جو مرے احساس میں باقی تھا شیرازہ ہؤا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے دُعا مقبول میری ہو گئ! آج اپنی حیثیت کا مجھ کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ مصلحت کوشی تجھے منزل تلک لے جائے گی! روح کی گہرائیوں میں ایسا آوازہ ہؤا ۔۔۔ تیرے چہرے کی اُداسی وہ چھپا سکتا ہے اب ، آجکل ایجاد پارس ایسا بھی غازہ ہؤا ۔۔۔! Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  13. کیا بات بتائیں لوگوں کی ۔۔۔۔ دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی!! کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں، دنیا کو سنانے کے قابل۔۔۔۔ کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں، بس دل میں چھپانے کے قابل۔۔۔۔ کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں، اک بار گئے تو آتے نہیں۔۔۔۔ ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں، پرچھائیں بھی انکی پاتے نہیں۔۔ کچھ لوگ خیالوں کے اندر، جذبوں کی روانی ہوتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح، پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں، کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں۔۔ کچھ ڈوبنے والی جانوں کو، تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ، کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا۔۔۔۔ کچھ لوگ مثال ابر رواں، کچھ اونچے درختوں کا سایہ۔۔۔۔ کچھ لوگ چراغوں کی صورت، راہوں میں اجالا کرتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ اندھیروں کی کالک چہرے پر اچھالا کرتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں، دو گام چلے اور رستے الگ۔۔۔۔ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ۔۔۔۔ Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  14. "لفظوں کے تھکے لوگ" ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے درد دل میں چھپا کے رکھتے ہیں آنکھ ویراں ہے اس طرح ان کی جیسے کچھ بھی نہیں رہا اس میں نہ کوئی اشک نہ کوئی سپنا نہ کوئی غیر نہ کوئی اپنا پپڑیاں ہونٹ پر جمی ایسی جیسے صدیوں کی پیاس کا ڈیرہ جیسے کہنے کو کچھ نہیں باقی درد سہنے کو کچھ نہیں باقی اجنبیت ہے ایسی نظروں میں کچھ بھی پہچانتے نہیں جیسے کون ہے جس سے پیار تھا ان کو کون ہے جس سے کچھ عداوت تھی کون ہے جس سے کچھ نہیں تھا مگر ایک بے نام سی رفاقت تھی سوکھی دھرتی کو ابر سے جیسے ایسی انجان سی محبت تھی رنگ بھرتے تھے سادہ کاغذ پر اپنے خوابوں کو لفظ دیتے تھے اپنی دھڑکن کی بات لکھتے تھے دل کی باتوں کو لفظ دیتے تھے اس کے ہونٹوں سے خامشی چن کو اس کی آنکھوں کو لفظ دیتے تھے چاندنی کی زباں سمجھتے تھے چاند راتوں کو لفظ دیتے تھے ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے اپنے جذبوں سے تھک گئے جیسے اپنے خوابوں سے تھک گئے جیسے دل کی باتوں سے تھک گئے جیسے اس کی آنکھوں سے تھک گئے جیسے چاند راتوں سے تھک گئے جیسے ایسے خاموشیوں میں رہتے ہیں اپنے لفظوں سے تھک گئے جیسے Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)
  15. جون ایلیا زمانے بھر کو اداس کر کے خوشی کا ستیا ناس کر کے میرے رقیبوں کو خاص کر کے بہت ہی دوری سے پاس کر کے تمہیں یہ لگتا تھا جانے دیں گے ؟ سبھی کو جا کے ہماری باتیں بتاؤ گے اور بتانے دیں گے ؟ تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں مناؤ گے اور منانے دیں گے ؟ میری نظم کو نیلام کر کے کماؤ گے اور کمانے دیں گے ؟ تو جاناں سن لو اذیتوں کا ترانہ سن لو کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم بھلے ہی دل سے نکال دو تم کمال دو یا زوال دو تم یا میری گندی مثال دو تم میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔! میں پھر بھی جاناں ۔۔۔ پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا بتاؤں تم کو ؟ میں کیا کروں گا ؟ میں اب زخم کو زبان دوں گا میں اب اذیت کو شان دوں گا میں اب سنبھالوں گا ہجر والے میں اب سبھی کو مکان دوں گا میں اب بلاؤں گا سارے قاصد میں اب جلاؤں گا سارے حاسد میں اب تفرقے کو چیر کر پھر میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد میں اب نکالوں گا سارا غصہ میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ مزید سُن لو۔۔۔ او نفرتوں کے یزید سن لو میں اب نظم کا سہارا لوں گا میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا اگر تو جلتا ہے شاعری سے تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں میں اب اذیت کا پیر ہوں جی میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)