Sign in to follow this  
  • entries
    438
  • comments
    2
  • views
    26,829

کچھ تو ہم بھی لکھیں گے

کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ‏کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ، جب خیال آئے گا
ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا

عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر
تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا

یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے
دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا

‏لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ
آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا

دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے
آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا

پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی
آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا

شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے
بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا

‏جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو
خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟

آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں
ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

Sign in to follow this  


0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now