Sign in to follow this  
  • entries
    438
  • comments
    2
  • views
    26,828

تمھیں چھونے کی خواہش میں

تمھیں چھونے کی خواہش میں تمھیں چھونے کی خواہش میں
نجانے ضبط کے کتنے کڑے موسم
تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے
میں نے گذارے ہیں
مجھے معلوم ہے چھونے سے
تم کو یہ نہیں ہو گا
مرے ہاتھوں کی پوروں پر کئی
جگنو دمک اٹھیں
تمہارے لمس کی خوشبو
مری رگ رگ میں بس جائے
مگر شاید یہ ممکن ہے تمہارے لمس کو پا کر
سلگتے دل کی دھرتی پر کوئی بادل برس جائے

مگر جاناں حقیقت ہے
تمھیں میں چھو نہیں سکتا!
اگرچہ لفظ یہ میرے
تمہاری سوچ میں رہتے،
تمہارے خواب چھوتے ہیں
تمھیں میں چھو نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت سے
کہیں زیادہ محبت ہے
میں ڈرتا ہوں کہیں چھونے
سے تم پتھر نا ہو جاؤ
میں وہ جس نے تمھیں تتلی
کے رنگوں سے سجایا ہے

میں وہ جس نے تمھیں لکھا ہے
جب بھی پھول لکھاہے
بھلا کیسے میں اس پیکر کو
چھو لوں اور ساری عمر
میں اک پتھر کی مورت کو سجا لوں
اپنے خوابو ں میں
مجھے تم سے محبت سے
کہیں زیادہ محبت ہے
تمھیں پتھر اگر کر لوں
تو خود بھی ٹوٹ جاؤ ں گا
سنو جاناں!
بھلے وہ ضبط کے
موسم کڑے ہوں ذات پر میری
تمہیں میں چھو نہیں سکتا

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

Sign in to follow this  


0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now