Sign in to follow this  
  • entries
    452
  • comments
    2
  • views
    32,863

یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو 

Sign in to follow this  
WaQaS DaR

583 views

یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے بچھڑ کے مجھ سے کبھی تونے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ترا بدن ہے یہ کہ آئینوں کا دریا ہے ؟ میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں کبھی کبھی تونے مجھے ٹھیک سمجھا ہے مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب میں نے شاخ سے گل کو بچھڑتے دیکھا ہے میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو کیوں خفا ہیں لوگ کہ پھول ٹوٹی ہوئی قبر پر بھی کھلتا ہے اسے گنوا کہ میں زندہ ہوں اس طرح محسن کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے محسن نقوی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

Sign in to follow this  


0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now