Sign in to follow this  
  • entries
    438
  • comments
    2
  • views
    26,956

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا

Sign in to follow this  
WaQaS DaR

521 views

ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات میں اسے شام ہی کو بھول گیا عہد وابستگی گزار کے میں وجہ وابستگی کو بھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر ایک میں ہر کسی کو بھول گیا سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہر غم زندگی کو بھول گیا خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا سوچ کر اس کی خلوت انجمنی واں میں اپنی کمی کو بھول گیا سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرصتی کو بھول گیا بستیو اب تو راستہ دے دو اب تو میں اس گلی کو بھول گیا اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا میں بھی گویا اسی کو بھول گیا یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے بت شکن بت گری کو بھول گیا اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بھول گیا اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ اپنی ایذا دہی کو بھول گیا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

Sign in to follow this  


0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now