Sign in to follow this  
  • entries
    438
  • comments
    2
  • views
    26,958

About this blog

Urdu shairy ki duniya. This blog has RSS of latest shairy o shairy topics from fundayforum.com.

If you are poetry lover please share here your fav poetry in comments. 

( Fundayforum.com)

fdwatermarkfd.png

Entries in this blog

 

ے موسم کی عادت گرجنا برسنا

ے موسم کی عادت گرجنا برسنا ے موسم کی عادت گرجنا برسنا
کہیں خوش کرے یہ کہیں آزمائے کوئی یاد کر کے کسے رو پڑے گا یہ سوچے نہ سمجھے برستا ہی جائے برستا ہے یکساں سبھی آنگنوں میں سبھی آنگنوں میں نہ یہ مسکرائے وہاں جا کے برسے جہاں زندگی ہے یہ سب جھوٹے قصے نہ ہم کو سنائے بڑی مشکلوں سے سلایا تھا جن کو وہ ہر خواب رم جھم یہ پھر سے جگائے نئی بارشوں میں نہیں بھیگنا ہے
ابھی پچھلی برکھا ہى دل کو جلائے
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں

یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں
یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
یہی بہت ہے کہ تم دیکھتی ہو ساحل سے
کہ سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں
رکھا تھا آئینہ دل میں چھپا کے تم کو
وہ گھر چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں
تم نے ہی آئینہ دل میرا بنایا تھا
تم نے ہی توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں
بالآخر زیست کے قابل بنا ہوں میں
بڑی مشکل سے پتھر دل بنا ہوں میں
وہ آئے ہیں سراپائے مجسم بن کر
میں گھبرا کر مجسمہ دل بنا ہوں
جہاں مقتول ہی ٹھہرے ہیں مجرم
یہی کچھ سوچ  کے قاتل بنا ہوں میں 
بڑا محتاط ہوں تیری محفل میں 
 تیری جانب سے سو غافل بنا ہوں میں
میں کھا کر ٹھوکریں تیری گلیوں کی 
بڑا مرشد بڑا کامل بنا ہوں میں
کوئی سمجھے گا کیا مجھ کو
خود اپنے لیے مشکل بنا ہوں میں
یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں 
یہ درد تو نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
 
Click to View the full article (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے
یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے
جگر مراد آبادی

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮧ ﻭﺻﺎﻝِ ﯾﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ

ﯾﮧ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮧ ﻭﺻﺎﻝِ ﯾﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ
ﺍﮔﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ، ﯾﮩﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﮮ ﻭﻋﺪﮮ ﭘﮧ ﺟﺌﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﺟﮭﻮﭦ ﺟﺎﻧﺎ
ﮐﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﺮﯼ ﻧﺎﺯﮐﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻋﮩﺪ ﺑﻮﺩﺍ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗُﻮ ﻧﮧ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﺮﮮ ﺗﯿﺮِ ﻧﯿﻢ ﮐﺶ ﮐﻮ
ﯾﮧ ﺧﻠﺶ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﺟﻮ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻨﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﺎﺻﺢ
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﺳﺎﺯ ﮨﻮﺗﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻤﮕﺴﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮒِ ﺳﻨﮓ ﺳﮯ ﭨﭙﮑﺘﺎ ﻭﮦ ﻟﮩﻮ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﻧﮧ ﺗﮭﻤﺘﺎ
ﺟﺴﮯ ﻏﻢ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﻏﻢ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﺟﺎﮞ ﮔﺴِﻞ ﮨﮯ، ﭘﮧ ﮐﮩﺎﮞ ﺑﭽﯿﮟ ﮐﮧ ﺩﻝ ﮨﮯ
ﻏﻢِ ﻋﺸﻖ ﮔﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ، ﻏﻢِ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮩﻮﮞ ﮐﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﺷﺐ ﻏﻢ ﺑﺮﯼ ﺑﻼ ﮨﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺑُﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺮﻧﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺮ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺭُﺳﻮﺍ، ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻏﺮﻕِ ﺩﺭﯾﺎ
ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍُﭨﮭﺘﺎ، ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺰﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﺍُﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﯾﮕﺎﻧﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﯾﮑﺘﺎ
ﺟﻮ ﺩﻭﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﮧ ﻣﺴﺎﺋﻞِ ﺗﺼﻮّﻑ، ﯾﮧ ﺗﺮﺍ ﺑﯿﺎﻥ ﻏﺎﻟﺐ
ﺗﺠﮭﮯ ﮨﻢ ﻭﻟﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺑﺎﺩﮦ ﺧﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ    
Click to View the full article (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہ معجزہ محبت کبھی دکھائے مجھے

یہ معجزہ بھی محبّت کبھی دِکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گِرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہُوں سائے کو بدن مِرا ہی سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے بَرنگِ عَود مِلے گی اُسے مِری خوشبُو وہ جب بھی چاہے، بڑے شوق سے جَلائے مجھے میں گھر سے، تیری تمنّا پہن کے جب نِکلوں برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نُکتہ چِیں میرا جو مُسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دِل سے نِکالوں خیال کِس کِس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گُزار کر تِری زُلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے، سارے جہاں‌ کو ہے معلوُم دَغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہْرباں ہے، تو اِقرار کیوں نہیں کرتا وہ بدگُماں ہے، تو سو بار آزمائے مجھے میں اپنی ذات میں نِیلام ہو رہا ہُوں، غمِ حیات سے کہہ دو خرِید لائے مجھے - قتیل شفائی
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو 

یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے بچھڑ کے مجھ سے کبھی تونے یہ بھی سوچا ہے کہ ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے یہ ختم وصل کا لمحہ ہے ، رائگاں نہ سمجھ کہ اس کے بعد وہی دوریوں کا صحرا ہے کچھ اور دیر نہ جھڑنا اداسیوں کے شجر کسے خبر کہ ترے سائے میں کون بیٹھا ہے یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے میں کس طرح تجھے دیکھوں ، نظر جھجکتی ہے ترا بدن ہے یہ کہ آئینوں کا دریا ہے ؟ میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں کبھی کبھی تونے مجھے ٹھیک سمجھا ہے مجھے خبر ہے کہ کیا ہے جدائیوں کا عذاب میں نے شاخ سے گل کو بچھڑتے دیکھا ہے میں مسکرا بھی پڑا ہوں تو کیوں خفا ہیں لوگ کہ پھول ٹوٹی ہوئی قبر پر بھی کھلتا ہے اسے گنوا کہ میں زندہ ہوں اس طرح محسن کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے محسن نقوی
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہ خوش نظری خوش نظر آنے کے لئے ہے 

یہ خوش نظری خوش نظر آنے کے لئے ہے 
اندر کی اداسی کو چھپانے کے لئے ہے میں ساتھ کسی کے بھی سہی ، پاس ہوں تیرے
سب دربدری ایک ٹھکانے کے لئے ہے ٹوٹے ہوئے خوابوں سے اٹھائی ہوئی دیوار
اِک آخری سپنے کو بچانے کے لئے ہے اس راہ پہ اک عمر گزر آئے تو دیکھا
یہ راہ فقط لوٹ کے جانے کے لئے ہے رہ رہ کے کوئی خاک اڑا جاتا ہے مجھ میں
کیا دشت ہے اور کیسے دِوانے کے لئے ہے تجھ کو نہیں معلوم کہ میں جان چکا ہوں 
تو ساتھ فقط ساتھ نبھانے کے لئے ہے تو نسلِ ہوا سے ہے بھلا تجھ کو خبر کیا 
وہ دکھ جو چراغوں کے گھرانے کے لئے ہے ( سعود عثمانی)  
View the full article

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یعنی یکطرفہ تھا ہمارا عشق؟

یعنی یکطرفہ تھا ہمارا عشق؟ ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ!!! شمامہ افق مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ اک پیادے کا ایک شاہ کا دکھ!! منزلوں تک ہمارے ساتھ گیا مختصر ایک شاہراہ کا دکھ! دکھ ہمیں اک ادھورے رشتے کا اسی رشتے سے پھر نبھاہ کا دکھ!!! یعنی یکطرفہ تھا ہمارا عشق؟ ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ!!! یہ جو شہزادی لینے آئے ہیں کیسے سمجھیں گے بادشاہ کا دکھ!
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ محبتیں مجھےچاھئیں

میری روح میں جو اُتر سکیں
وہ محبتیں مجھےچاھئیں
جو سراب ھوں نہ عذاب ھوں
وہ رفاقتیں مجھے چاھئیں انہیں ساعتوں کی تلاش ھے
جو کیلینڈروں سے اتر گئیں
جو سمئے کے ساتھ گزر گئیں
وھی فرصتیں مجھے چاھئیں کہیں مِل سکے تو سمیٹ لا
میری روز و شب کی کہانیاں
جو غبارِ وقت میں چُھپ گئیں
وہ حکایتیں مجھے چاھئیں جو میری شبوں کے چراغ تھے
وھی میری امید کے باغ تھے
وھی لوگ ھیں میری آرزو
وھی صُورتیں مجھے چاھئیں تیری قربتیں نہیں چاھئیں
میری شاعری کے مزاج کو
مجھے فاصلوں سے دوام دے
تیری فرقتیں مجھے چاھئیں مجھے اور کچھ نہیں چاھیے
یہ دعائیں ھے میرا سائبان
کڑی دھوپ میں جو مل سکیں
تو یہی چھتیں مجھے چاھئیں ”اعتبار ساجد“  
Click to View the full article (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے

وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے پتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم ساز یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں اس دشت بلا میں نہ سمجھ خود کو اکیلا میں چوب کی صورت ترے خیمے میں گڑی ہوں پھولوں پہ برستی ہوں کبھی صورت شبنم بدلی ہوئی رت میں کبھی ساون کی جھڑی ہوں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے

وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں وہ مجھ سے ستاروں کا پتہ پوچھ رہا ہے
پتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں

الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم ساز
یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں

اس دشت بلا میں نہ سمجھ خود کو اکیلا
میں چوب کی صورت ترے خیمے میں گڑی ہوں

پھولوں پہ برستی ہوں کبھی صورت شبنم
بدلی ہوئی رت میں کبھی ساون کی جھڑی ہوں

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے

وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے پرانی ڈائری اک، آج شب نکالی ہے اسے پڑھا ہے تری یاد بھی منا لی ہے لگا چکا ہے ستاروں کو آج باتوں میں وہ تیری بات ترے چاند نے گھما لی ہے تُو اپنی تلخ زباں اس پہ جھاڑتا کیوں ہے؟ ارے یہ ماں ہے، بہت پیار کرنے والی ہے فقیر لوگ عجب بادشاہ ہوتے ہیں کہ کائنات ہے مٹھی میں، جیب خالی ہے وہ گھر بتاتے ہوئے ڈر گئی مرے بارے پھر آج اُس نے انگوٹھی کہیں چھپا لی ہے یہ تم سدا کے لئے اب بچھڑ رہے ہو کیا؟ نہیں؟ تو پھر مِری تصویر کیوں بنا لی ہے؟
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ جسے

وہ جسے
بھولنے کی کوشش میں
میں نے مصروفیت کو اوڑھا تھا
رات کو ٹوٹتا بدن لے کر
جب گری تھی میں اپنے بستر پہ
اس کی یادوں نے بہت دیر تلک
میرے بالوں میں انگلیاں پھیریں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا

وہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا، اُسے کِس نے اپنا بنا لیا
مِری آنکھ کِس نے اُجاڑ دی،مِرا خواب کِس نے چُرا لیا
تجھے کیا بتائیں کہ دِلنشیں! تِرے عِشق میں، تِری یاد میں
کبھی گفتگو رہی پُھول سے، کبھی چاند چھت پہ بُلا لیا
مِری جنگ کی وہ ہی جیت تھی،مِری فتح کا،وہی جشن تھا
میں گرا ، تو دَوڑ کےاُس نےجب ، مجھے بازوؤں میں اُٹھا لیا
مِری چاند چُھونےکی حسرتیں،مِری خوشبُو ہونےکی خواہشیں
تُو ملا، تو ایسا لگا صنم! مجھے جو طلب تھی، وہ پا لیا
مِرے دشمنوں کی نظر میں بھی، مرا قد ، بڑا ہی رہا سدا
مِری ماں کی پیاری دعاؤں نے،مجھے ذِلّتوں سے بچا لیا
مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تِرا حال تھا مجھے یاد ہے!
کبھی جَل گئیں تِری رَوٹیاں، کبھی ہاتھ تُو نے جلا لیا
مِری ڈائری،مِری شاعری،مِرے افتی ! پڑھ کے وہ رَو پڑی
مِرے پاس آ کے کہا مجھے! بڑا روگ تُو نے لگا لیا
Click to View the full article (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ تم نہ تھے اک خیال تھا

وہ تم نہ تھے اک خیال تھا میری سوچ کا ہی کمال تھا وہ محبتیں وہ چاہتیں وہ الجھنوں کا ہے جال تھا میرے دل میں تھی جو رونقیں وہ تیرا ہی حسنِ جمال تھا جواب جس کا ملا نہیں وہ ایسا ہی اک سوال تھا وہ آج ملا تو یوں لگا یہی تو ہے وہ جس کا انتظار تھا اسے یاد کیسے نا کرے کوئی اُسے بھولنا تو مُحال تھا اب اس کی کیا میں مثال دوں وہ تو اپنی مثال آپ تھا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وه سلسلے وه شوق وه نسبت نهیں رهی

وه سلسلے وه شوق وه نسبت نهیں رهی
اب زندگی میں هجر کی وحشت نهیں رهی
ٹوٹا هے جب سے اسکی مسیحائی کا طلسم
دل کو کسی مسیحا کی حاجت نهیں رهی
پهر یوں هوا که کوئی شناسا نهیں رها
پهر یوں هوا که درد میں شدت نهیں رهی
پهر یوں هوا که هو گیا مصروف وه بهت
اور هم کو یاد کرنے کی فرصت نهیں رهی
اب کیا کسی کو چاهیں که هم کو تو ان دنوں
خود اپنے آپ سے بهی محبت نهیں رهی  
View the full article

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ہمیں پتا ہے کہ کیسے نبھاتے پھرتے ہیں

ہمیں پتا ہے کہ کیسے نبھاتے پھرتے ہیں تمام لوگ ہی باتیں بناتے پھرتے ہیں وہ پاس تھا تو چھپاتے تھے ہر کسی سے اُسے جو کھو گیا ہے تو سب کو بتاتے پھرتے ہیں ہم اپنا آپ نہ وحشت میں توڑ بیٹھیں کہیں سو اپنے آپ کو خود سے چھپاتے پھرتے ہیں کسی کو حال سناتے ہوئے نہیں رونا! یہاں کے لوگ ہنسی میں اڑاتے پھرتے ہیں ہمیں ملے گا اگر تُو تو جانے کیا ہو گا ابھی ملا نہیں پھر بھی گنواتے پھرتے ہیں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا www.fundayforum.com
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ہم تُم تمام شُد تو،،،، محبّت تمام شُد

ہم تُم تمام شُد تو،،،، محبّت تمام شُد حیرت کدہِ عشق سے، حیرت تمام شُد ہکلا رھا تھا دیکھ کے ظلم و ستم کو مَیں چیخا ہُوں اتنے زور سے ،، لُکنت تمام شُد بیٹے نے میرے بعد وصیّت میری پڑھی "اک خوابِ لامکاں پہ، وراثت تمام شُد" للکارتا ہوں چاروں طرف، دشمنوں کو مَیں نرغے میں گِھر گیا ہُوں تو دہشت تمام شُد دنیا ہزار سال،،،،، سناتی رہے تو کیا اک سانسِ آخری میں حکایت تمام شُد صدیاں گُزر گئی ھیں ترے انتظار میں اے مرگِ ناگہاں ! میری طاقت تمام شُد ایسا نہ ہو خدا سے جب اپنا حساب لُوں تب یہ پتہ چلے کہ،،،،،،، قیامت تمام شُد جاتا ہوں دشمنوں کی طرف ڈھونڈنے اُسے ہے شہرِ دوستاں میں،،،،،،، مروّت تمام شُد اُس نے کہا کہ جا ، مَیں اُٹھا، اور دِیا بُجھا جو رَہ گئی تھی باقی،،،،، وُہ عزّت تمام شُد سائے پہ کیا غرور کرے کوئی دوستو سُورج ہُوا غروب تو،،،قامت تمام شُد
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ہم پر تُمھاری چاہ کا اِلزام ہی تو ہے

فیض احمد فیض ہم پر تُمھاری چاہ کا اِلزام ہی تو ہے دُشنام تو نہیں ہے، یہ اِکرام ہی تو ہے دِل نااُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے لبمی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن، کوئی جُرم تو نہیں شوقِ فضُول و اُلفتِ ناکام ہی تو ہے دِل مُدّعی کے حرفِ مَلامت سے، شاد ہے اے جانِ جاں ! یہ حرف تِرا نام ہی تو ہے ! دستِ فلک میں گردشِ تقدیر تو نہیں دستِ فلک میں گردشِ ایّام ہی تو ہے ! آخر تو ایک روز، کرے گی نظر وفا وہ یارِ خوش خصال سرِ بام ہی تو ہے بھیگی ہے رات، فیض! غزل اِبتدا کرو وقتِ سرود، درد کا ہنگام ہی تو ہے فیض احمد فیض
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ہم پر تُمھاری چاہ کا اِلزام ہی تو ہے

فیض احمد فیض ہم پر تُمھاری چاہ کا اِلزام ہی تو ہے دُشنام تو نہیں ہے، یہ اِکرام ہی تو ہے دِل نااُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے لبمی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے کرتے ہیں جس پہ طعن، کوئی جُرم تو نہیں شوقِ فضُول و اُلفتِ ناکام ہی تو ہے دِل مُدّعی کے حرفِ مَلامت سے، شاد ہے اے جانِ جاں ! یہ حرف تِرا نام ہی تو ہے ! دستِ فلک میں گردشِ تقدیر تو نہیں دستِ فلک میں گردشِ ایّام ہی تو ہے ! آخر تو ایک روز، کرے گی نظر وفا وہ یارِ خوش خصال سرِ بام ہی تو ہے بھیگی ہے رات، فیض! غزل اِبتدا کرو وقتِ سرود، درد کا ہنگام ہی تو ہے فیض احمد فیض
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ﮨﺮ ﺷَﺨﺺ ﮐﯽ ﻗِﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ

ﮨﺮ ﺷَﺨﺺ ﮐﯽ ﻗِﺴﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ
ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒٌﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﺎ
ﺟﺲ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻘﺪٌﺭ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷﮧ ﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﺍﺏ
ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻗُﺮﺑﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﻟُﻔﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮬﻮﺍ ﻣﯿﮟ
اس ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﻓُﺮﺻﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ  
Click to View the full article (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ھو تری خیر مجھے روگ لگانے والے

تو بھی اب چھوڑ دے انداز ستانے والے حوصلے اب کہاں اس دل میں پرانے والے یہ خزانے ھیں زمانے سے چھپانے والے زخم ھوتے نہیں ھیں دل کے دکھانے والے تو بھی ھر چیز کی اب مجھ سے وضاحت چاھے ھو گئے تیرے بھی اسلوب پرانے والے اب اندھیروں میں یوں چپ چاپ پڑے رھتے ھیں ھم , چراغوں کو سر شام جلانے والے جن کی تقدیر میں تعبیر نہیں ھوتی ھے اب وہ آتے ھی نہیں خواب سہانے والے آشنا لذت گریہ سے کیا ھے تو نے ھو تری خیر مجھے روگ لگانے والے
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

هم نے کاٹی هیں تری یاد میں راتیں اکثر

هم نے کاٹی هیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل سے گزری هیں ستاروں کی باراتیں اکثر عشق رهزن نه سهی‘عشق کے هاتھوں پھر بھی
هم نے لٹتی هوئی دیکھی هیں براتیں اکثر هم سے اک بار بھی نه جیتا هے نه جیتے گا کوئی
وه تو هم جان کے کھا لیتے هیں ماتیں اکثر ان سے پوچھو کبھی چهرے بھی پڑھے هیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتے هیں باتیں اکثر حال کهنا هو کسی سے تو مخاطب هے کوئی
کتنی دلچسپ هوا کرتی هیں باتیں اکثر اور تو کون هے جو مجھ کو تسلی دیتا
هاتھ رکھ دیتی هیں دل پر تری باتیں اکثر  
View the full article

WaQaS DaR

WaQaS DaR

Sign in to follow this