Sign in to follow this  
  • entries
    437
  • comments
    2
  • views
    23,911

About this blog

Urdu shairy ki duniya. This blog has RSS of latest shairy o shairy topics from fundayforum.com.

If you are poetry lover please share here your fav poetry in comments. 

( Fundayforum.com)

fdwatermarkfd.png

Entries in this blog

 

ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ

ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ﻓﺮﯾﺐِ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻮ ، ﺟﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﻨﮑﺸﻒ ھﻮ ﮔﯽ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ

ﻭھﯽ ﺍﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ، ﺗﻌﻠّﻖ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ
ھﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ھﻮﺗﮯ ھﯿﮟ ، ﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﺩﯾﮑﮭﻮ

ﻟﮑﮭﺎ ھﮯ ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ، ﻋﺠﯿﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ
ﭘﻠﭩﻨﺎ ھﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ، ﺍُﺳﯽ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ

ھﻤﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﻧﮧ ﺧﻮﺵ ﺍﺗﻨﺎ ، ﻟﺒﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺳﮯ
ھﻤﺎﺭﯼ ﺁنکھ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻠﮯ ھﺰﺍﺭﻭﮞ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ

ﺗﮭﮑﮯ ھﺎﺭﮮ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﮕﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺻﺪﺍ ﺳﻦ ﮐﺮ
ﺷﮑﺴﺘﮧ ﭘﺎ ﭼﻠﮯ آئے ، ھﻤﺎﺭﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

Ehsas e gham

محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی
تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی
تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار
یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی
پرساں نہ تھا کوئ تو یہ رسوائیاں نہ تھیں
ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی
ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا
درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی
دن بھی اُداس اور مری رات بھی اداس
ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی
دورِ خزاں میں یوں مرا دل بے قرار ہے
میں جیسے آشناۓ بہاراں نہ تھا کبھی
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی
بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات
جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی



Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

کچھ تو ہم بھی لکھیں گے

کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ‏کچھ تو ہم بھی لکھیں گے ، جب خیال آئے گا
ظلم ، جبر ، صبر کا جب سوال آئے گا

عقل ہے، شعور ہے پھر بھی ایسی بے فکر
تب کی تب ہی دیکھیں گے جب زوال آئے گا

یوں تو ہم ملائک ہیں ، بشر بھی کبھی ہونگے
دُسروں کے دُکھ پہ جب ملال آئے گا

‏لہو بھی رگوں میں اب جم سا گیا ہے کچھ
آنکھ سے بھی ٹپکے گا جب اُبال آئے گا

دیکھ مت فقیروں کو اس طرح حقارت سے
آسمان ہلا دیں گے جب جلال آئے گا

پگڑیاں تو آپ کی بھی ایک دن اُچھلیں گی
آپ کے گناہوں کا جب وبال آئے گا

شاعری ابھی ہمارے دل کی بھڑاس ہے
بالوں میں جب سفیدی ہو گی کمال آئے گا

‏جس کو مجھ سے کہنا ہے ، جو کچھ بھی ، ابھی کہ دو
خاک جب ہو جاؤں گا تب خیال آئے گا ؟

آج کل کے مسلم بھی فرقہ فرقہ پھرتے ہیں
ایک یہ تبھی ہوں گے جب دجال آئے گا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا 

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا
آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا
شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا
اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا
اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا
جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا
اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا
احمدفراز

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

بازوؤں کی چھـتری تھی

بازوؤں کی چھـتری تھی بازوؤں کی چھـتری تھی راستوں کی بارش میں
بھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں

اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب
مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میں

بھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے
دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں

بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیں
ایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میں

شـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کی
جب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میں

دل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہے
کتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میں

شہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا
پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں

بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی
رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میں

ہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھے
تم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں

کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے
کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

آنکھ میں خواب نہیں

آنکھ میں خواب نہیں آنکھ میں خواب نہیں خواب کا ثانی بھی نہیں
کنج لب میں کوئی پہلی سی کہانی بھی نہیں

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں اک شہر تخیل میں تجھے
اور مرے پاس ترے گھر کی نشانی بھی نہیں

بات جو دل میں دھڑکتی ہے محبت کی طرح
اس سے کہنی بھی نہیں اس سے چھپانی بھی نہیں

آنکھ بھر نیند میں کیا خواب سمیٹیں کہ ابھی
چاندنی رات نہیں رات کی رانی بھی نہیں

لیلی حسن ذرا دیکھ ترے دشت نژاد
سر بسر خاک ہیں اور خاک اڑانی بھی نہیں

کچے ایندھن میں سلگنا ہے اور اس شرط کے ساتھ
تیز کرنی بھی نہیں آگ بجھانی بھی نہیں

اب تو یوں ہے کہ ترے ہجر میں رونے کے لئے
آنکھ میں خون تو کیا خون سا پانی بھی نہیں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے
یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے
جگر مراد آبادی

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

اے خُدا معذرت

اے خُدا معذرت مَیں جہاں تھا وہیں رہ گیا، معذرت
اے زمیں معذرت ! اے خُدا معذرت

کچھ بتاتے ھوئے، کچھ چُھپاتے ھوئے
مَیں ھَنسا، معذرت ! رُو دیا، معذرت

خُود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ھے اور
خُود سے کی ھے تمھاری جگہ معذرت

جو ھوا، جانے کیسے ھوا، کیا خبر
ایک دن مَیں نے خود سے کہا، معذرت

ھم سے گِریہ مکمل نہیں ھو سکا
ھم نے دیوار پر لکھ دِیا، معذرت

مَیں بہت دُور ھوں، شام نزدیک ھے
شام کو دو صدا، شکریہ ! معذرت
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

دکھ

دکھ
کہتا ہے ایک دن مجھ سے
بڑا دکھ ہے مجھے
میں نے پوچھا
کس بات کا دکھ؟
کہتا ہے بس کچھ ہے
میں نے پوچھا
کھانا پیٹ بھر کر کھاتے ہو؟
کہتا ہے ہاں
پھر پوچھا
کوئی بیماری تو نہیں؟
کہتا ہے نہیں
پھر پوچھا اعضاء سلامت ہیں؟
کہتا ہے ہاں
سر پہ چھت ہے؟
کہتا ہے ہاں
پھر میں لے گئی اس کو ایک ایسی جگہ
جہاں قحط تھا
بچوں کے جسم لباس سے عاری
اور پیٹ اناج سے خالی
سونے کو چھت نہیں
نہ سردی کی لذت
نہ گرمی کی ہیبت
احساس جیسے باقی ہی نہ رہے
ایک اور ایسی جگہ
جہاں زندگی ایک جرم تھی
روز لاشیں گرتیں
عزتیں پامال ہوتیں
ظلم اپنی انتہا پہ
جہاں آتی جاتی سانسوں پہ بھی
شکر تھا کہ سلامت ہیں
پھر میں نے پوچھا
اب بتاؤ کوئی دکھ ہے باقی؟
کہتا ہے نہیں مجھے تو دکھ کے معنی
آج سمجھ آئے ہیں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا

عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا
ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا
آپ کہتے تھے رونے سے نہ بدلیں گے نصیب
عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا
رونے والوں سے کہو اُن کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبورئ حالات نے رونے نی دیا
تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا
تنگئ وقتِ حالات نے رونے نہ دیا
ایک دو روز کا صدمہ ہو تو رو لیں فاکر
ہم کو ہر روز کے صدمات نے رونے نہ دیا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

Urdu Funny Poetry

سوہنی گھاٹ بدل سکتی تھی
اور کہانی چل سکتی تھی
رانجھا غُنڈے لے آتا تو
ہِیر کی شادی ٹَل سکتی تھی
سَسّی کے بھی اُونٹ جو ہوتے
تھَل میں کَیسے جل سکتی تھی
مرزے نے ، کب سوچا تھا کہ
صاحباں راز اُگَل سکتی تھی
لیلی' کالی پڑھ لِکھ جاتی
فیئر اینڈ لَولی مَل سکتی تھی
جو پتھّر فرہاد نے توڑے
جی ٹی روڈ نکل سکتی تھی
انٹرنیٹ پہلے جو ہوتا
ہِجر کی رات بھی ڈھَل سکتی تھی



Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

درویشیں ہار گئی ہوں

درویشیں ہار گئی ہوں

درویشا میں خالی
درویشا میں ہار گئی ہوں
دنیا کالی میں اندر سے خالم خالی

درویشا کوئی ٹونا ، ورد وظیفہ کر
مجھے "م" کرے منظور
مجھے کوئی جاچ سکھا
مرا لوں لوں گھنگرو بن جاوے
مجھے ناچ سکھا

مجھے ایسا ناچ سکھا دے
روح نماز قضا نہ کر پاوے
من یار قضا نہ کر پاوے
یہ کالی دنیا لاکھ کرے تدبیر
فقیر سے یار جدا نہ کر پاوے

مرے درویشا تجھے واسطہ تیرے نینوں کا
جہاں "م" نے ڈیرا ڈالا ہے
ترے دھو دھو پیر پیوں
مجھ کو اُن "مَازَاْغَ البَصَرِیْ" نینوں کا
بس اک جام پلا دے

میں اس دنیا ورگی کالی
وے درویشا میں اندر سے خالم خالی ، نین سوالی
وے میں ہاری تیرے در پر جیتنے آگئی
بھر دے پیاسی روح کی پیالی

میرے خالی پن کو "م" کے رنگ سے بھر دے
وے درویشا تو چمکیلا
روشن ، پیارا ، رنگ رنگیلا
دنیا کالی
اور اک میں اندر سے خالی..!

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ

ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ .ﺑﺴﻤﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ، ﻗﺎﺗﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ
ﺗﻢ ﺟﺲ ﭘﮧ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﻮ، ﺍﺱ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ

ﺁ ﺟﺎﺅ ﺟﻮ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ، ﺍﮎ ﺟﺎﻥ ﺳﯽ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
ﺍُﭨﮫ ﺟﺎﺅ ﺟﻮ ﻣﺤﻔﻞ ﺳﮯ، ﻣﺤﻔﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ

ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﺎ، ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﯿﺎ
ﮨﻢ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺳﻔﺮ ﭘﯿﺎﺭﺍ، ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﺧﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ

ﺍﺏ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮨﯿﮟ، ﮐﺸﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﻣﮍ ﮐﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ، ﺳﺎﺣﻞ ﮐﺎ ﺧُﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

وہ جسے

وہ جسے
بھولنے کی کوشش میں
میں نے مصروفیت کو اوڑھا تھا
رات کو ٹوٹتا بدن لے کر
جب گری تھی میں اپنے بستر پہ
اس کی یادوں نے بہت دیر تلک
میرے بالوں میں انگلیاں پھیریں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں

جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں جو اِسم و جسم کو باہم نِبھانے والا نہیں
میں ایسے عشق پہ ایمان لانے والا نہیں

میں پاؤں دھو کے پئیوں یار بن کے جو آئے
منافقوں کو تو میں منہ لگا نے والا نہیں

نزول کر مرے سینے پہ اے جمال ِ شدید
تری قسم میں ترا خوف کھانے والا نہیں

بس اِتنا جان لے اے پُر کشش کے دل تجھ سے
بہل تو سکتا ہے پر تجھ پہ آنے والا نہیں

یہ میری آنکھ میں بھڑکے تو پھر ہٹاؤں گا
ابھی میں آگ سے نظریں ہٹانے والا نہیں

تجھے کسی نے غلط کہہ دیا میرے بارے
نہیں میاں میں دِلوں کو دُکھانے والا نہیں

ہے ایک رمز جو تجھ پر عیاں نہیں کرنی
ہے ایک شعر جو تجھ کو سنانے والا نہیں

فقیر قول نبھاتا ہے پریم کرتا ہے
فقیر کوئی کرامت دِکھانے والا نہیں

سن اے قبیلہء ِ کوفی دِلاں مُکرر سن
علی کبھی بھی حزیمت اُٹھانے والا نہیں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

زمانے بھر کو اداس کر کے

زمانے بھر کو اداس کر کے
خوشی کا ستیا ناس کر کے
میرے رقیبوں کو خاص کر کے
بہت ہی دوری سے پاس کر کے
تمہیں یہ لگتا تھا
جانے دیں گے ؟
سبھی کو جا کے ہماری باتیں
بتاؤ گے اور
بتانے دیں گے ؟
تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں
مناؤ گے اور
منانے دیں گے ؟
میری نظم کو نیلام کر کے
کماؤ گے اور
کمانے دیں گے ؟
تو جاناں سن لو
اذیتوں کا ترانہ سن لو

کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم
بھلے ہی دل سے نکال دو تم
کمال دو یا زوال دو تم
یا میری گندی مثال دو تم
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔!
میں پھر بھی جاناں ۔۔۔
پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا
گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا
اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو
میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا
بتاؤں تم کو ؟
میں کیا کروں گا ؟
میں اب زخم کو زبان دوں گا
میں اب اذیت کو شان دوں گا
میں اب سنبھالوں گا ہجر والے
میں اب سبھی کو مکان دوں گا
میں اب بلاؤں گا سارے قاصد
میں اب جلاؤں گا سارے حاسد
میں اب تفرقے کو چیر کر پھر
میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد
میں اب نکالوں گا سارا غصہ
میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ
میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے
میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ
مزید سُن لو۔۔۔
او نفرتوں کے یزید سن لو
میں اب نظم کا سہارا لوں گا
میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا
اگر تو جلتا ہے شاعری سے
تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا
میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں
کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں
کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب
خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں
میں اب اذیت کا پیر ہوں جی
میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی
کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں
جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی

جون ایلیا

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

تمُ اگر جو پُوچھو نا

تمُ اگر جو پُوچھو نا

تمُ اگر جو پُوچھو نا
مجھ سے یہ کہ کیا ہو تم
میں کہوں گی تم جانان
آسْمانِ اُلفَت کا وُہ چَمَکتا تاَرا ہو
رَبّ نے جِس کو چَاہَت سے
پیار سے اُتارا ہو

تمُ اگر جو پوچھو نا کیا دُعا تمہیں دُونگی
میں کہوں گی جاناں کہ
چاند اور سُورج کی
روشنی سے چَمکا کر
پھُولوں سے مُزَیَّن اِک
پیار اور مُحَبَّت کا آَشَیاں تمہارا ہو
اَمن کا گِہوارَہ ہو
اَیسا گھَر تمہارا ہو

تمُ اگر سُنَّناَ چاہو تو تمہیں سُناؤں میں
ایسی دُھن کہ جِس کا سَاز
دِل سے تار لے کر کے
ہَر اِک سُر نِکَھارا ہو
رَقص میں یہ جَہاں ساَرا ہو
تمُ اگر جو ماَنگو تو
اپنی سَانسِیں لے کر میں
نام تیرے کر دوں یوں
آنے والا ہَر اِک دَم بھی فََقط تمہارا ہو
تم اَگر جو دیکھو ناَ
میری نَظروں سے خُود کو
ایَسا گُمان پَاؤ گے
چَندا اور تاروں نے
ان حَسِین نَظَاروں نے
صَدقَہ عِشق کا تیرے ہر گَھڑی اُتَارا ہو

پُوچَھو ایسی حاَلت ہو
تو مجُھے کیسے جَانا
اَوَر۔۔ تیر ا غیَروں کی
اِلتِفاَت گَوَارہ ہو
کیوں نا پاگلوں جیسا
حال پِھر ہمارا ہو

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

"کوئی تو ہے ناں "

"کوئی تو ہے ناں "
اداسیوں کے سبب کے بارے میں سوچنا کیا ؟
اداسیوں کا سبب کوئی ہو ! حسین تر ہے
کسی کی باتوں میں کھوئے رہنا
کسی کی یادوں میں روئے جانا
عبادتوں ہی کی شکل ٹھہری
عقیدتوں کے چراغ ہم نے جلائے کتنے ! کسے خبر ہے ؟
یہ رنج کتنے خفا تھے ہم سے، منائے کتنے ؟ کسے خبر ہے ؟
کسے خبر ہے کہ تھپکیاں اور لوریاں دے کے درد ہم نے سلائے کتنے ؟
اُسے خبر ہے ! کہ جس خاطر اُداسیوں کو گلے لگایا
اُسے خبر ہے ! کہ جس کے بارے خدا کو ہم نے بہت بتایا
بہت دعا کی
وہ جانتی ہے ! کہ جس کی خاطر خدا کے گھر میں صدا لگائی
وہ مانتی ہے ! کہ جس کی خاطر قبول رنج و الم کیے ہیں
وہ کس اذیت کو کاٹتی ہے ! مجھے خبر ہے
وہ کیسے لوگوں میں، کس طرح زیست کاٹتی ہے ! مجھے خبر ہے
مجھے خبر ہے ! وہ وقت کیسے گزارتی ہے ! مجھے خبر ہے
خموشیوں کی، اداسیوں کی وہ ماہرانی
اداس دلہن ! غموں کی ملکہ
وہ شاہزادی دکھوں کی ماری
اداس ہو کر وہ جیسے مجھ کر پکارتی ہے ! مجھے خبر ہے
تمہیں خبر ہو ! تو تم کبھی بھی اداسیوں کا سبب نہ پوچھو
تمہیں خبر ہو ! تو تم بھی میری اداسیوں کے مزار پر ننگے پاؤں آ کر دیے جلاؤ
پھر عمر بھر مسکرا نہ پاؤ ! تو کیا کرو گے ؟
سو میری مانو ! اداسیوں کا سبب نہ پوچھو
یہی ہے بہتر ! یہی بہت ہے ! بس اتنا کافی ہے
مدتوں سے جو کہہ رہا ہوں
کوئی تو ہے نا
کہ جس کی خاطر
اداس رہنے کا
شوق سا ہے
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

تمھیں چھونے کی خواہش میں

تمھیں چھونے کی خواہش میں تمھیں چھونے کی خواہش میں
نجانے ضبط کے کتنے کڑے موسم
تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے
میں نے گذارے ہیں
مجھے معلوم ہے چھونے سے
تم کو یہ نہیں ہو گا
مرے ہاتھوں کی پوروں پر کئی
جگنو دمک اٹھیں
تمہارے لمس کی خوشبو
مری رگ رگ میں بس جائے
مگر شاید یہ ممکن ہے تمہارے لمس کو پا کر
سلگتے دل کی دھرتی پر کوئی بادل برس جائے

مگر جاناں حقیقت ہے
تمھیں میں چھو نہیں سکتا!
اگرچہ لفظ یہ میرے
تمہاری سوچ میں رہتے،
تمہارے خواب چھوتے ہیں
تمھیں میں چھو نہیں سکتا
مجھے تم سے محبت سے
کہیں زیادہ محبت ہے
میں ڈرتا ہوں کہیں چھونے
سے تم پتھر نا ہو جاؤ
میں وہ جس نے تمھیں تتلی
کے رنگوں سے سجایا ہے

میں وہ جس نے تمھیں لکھا ہے
جب بھی پھول لکھاہے
بھلا کیسے میں اس پیکر کو
چھو لوں اور ساری عمر
میں اک پتھر کی مورت کو سجا لوں
اپنے خوابو ں میں
مجھے تم سے محبت سے
کہیں زیادہ محبت ہے
تمھیں پتھر اگر کر لوں
تو خود بھی ٹوٹ جاؤ ں گا
سنو جاناں!
بھلے وہ ضبط کے
موسم کڑے ہوں ذات پر میری
تمہیں میں چھو نہیں سکتا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

کسی راکھ میں ہے دبا ہوا

کسی راکھ میں ہے دبا ہوا کسی شب وہ آئے جو خواب میں
اسے درد سارے ہی سونپ دوں
اسے کہہ سکوں وہ شکایتیں
جسے لہر ِ موج ِ فراق نے
تہہ ِ آب کب سے دبا دیا

یہ فصیل ِ جاں پہ سکوت سا
مجھے کھا رہا ھے کتر کتر
مرے بے خبر تجھے کیا پتا
مری سانس سے ترے درد کا
جو ہے ایک رشتہ بندھا ہوا
یہ چراغ زد میں ہواؤں کی
کسی طاق میں ہے دھرا ہوا
جو تھا خواب مری حیات کا
کسی راکھ میں ہے دبا ہوا

کسی شب تو آ مرے خواب میں
مرے ہمسفر ذرا دیکھ لے
مری شب گزیدہ نگاہ میں
تیرے بعد درد ہی رہ گئے
مری شاخ ٹوٹی ھے سوکھ کر
مرے پھول زرد ہی رہ گئے
کسی شب تو آ مرے خواب میں
مرے ہمسفر مجھے دیکھنے

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

نہ سکوں نہ بے قراری

نہ سکوں نہ بے قراری نہ سکت ھے ضبطِ غم کی ، نہ مجالِ اشکباری
یہ عجیب کیفیت ہے ... نہ سکوں نہ بے قراری

یہ قدم قدم بلائیں ......... یہ سوادِ کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے، جسے زندگی ھو پیاری

میری آنکھ منتظر ھے ..... کسی اور صبحِِ نو کی
یہ سحر تمہیں مبارک ، جو ھے ظلمتوں کی ماری

وھی پھول چاک دامن ، وھی رنگِ اھلِ گلشن
ابھی صرف یہ ھوا ھے ..... کہ بدل گئے شکاری

تیرے جاں فراز وعدے، مجھے کب فریب دیتے
تیرے کام آ گئی ھے ........ میری زود اعتباری

تیرا ایک ھی کرم ھے، تیرے ھر ستم پہ بھاری
غمِ دوجہاں سے تُو نے مجھے بخشی رُستگاری

جو غنی ھو ما سِوا سے ، وہ “گدا ” گدا نہیں ھے
جو اسیرِ ما سِوا ھے ، وہ غنی بھی ھے بھکاری
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

تبلیغ عشق

بڑا فریضہ تھا تبلیغ عشق میرے لئے ۔۔۔
میں منکروں کی زمین پر آذان دے آیا

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ے موسم کی عادت گرجنا برسنا

ے موسم کی عادت گرجنا برسنا ے موسم کی عادت گرجنا برسنا
کہیں خوش کرے یہ کہیں آزمائے کوئی یاد کر کے کسے رو پڑے گا یہ سوچے نہ سمجھے برستا ہی جائے برستا ہے یکساں سبھی آنگنوں میں سبھی آنگنوں میں نہ یہ مسکرائے وہاں جا کے برسے جہاں زندگی ہے یہ سب جھوٹے قصے نہ ہم کو سنائے بڑی مشکلوں سے سلایا تھا جن کو وہ ہر خواب رم جھم یہ پھر سے جگائے نئی بارشوں میں نہیں بھیگنا ہے
ابھی پچھلی برکھا ہى دل کو جلائے
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں

کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں
جھیل پر کچھ دائرے میں چھوڑ دوں بدگمانی رہ گئی ہے درمیاں
عمر بھر کے حوصلے میں چھوڑ دوں آنکھ تو دامن بچا کر آ گئی
دل تمھارے راستے میں چھوڑ دوں روگ یہ دل کا بدن تک آ گیا
سوچتی ہوں اب اسے میں چھوڑ دوں
زندگی ہے وہ ،مری عادت نہیں
کس طرح سے پھر اسے میں چھوڑ دوں
کچھ لکیریں بن رہی ہیں زیست میں
کیا اسے بھی حاشیے میں چھوڑ دوں
کیا کہا !اب ساتھ مشکل ہو گیا
تم کہو تو راستے میں چھوڑ دوں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

الف اللہ نال رتّا دل میرا

الف اللہ نال رتّا دل میرا
مینوں ”ب“ دی خبر نہ کائی
”ب“ پڑھدیاں مینوں سمجھ نہ آوے
لذّت الفِ دی آئی
”ع“ تے ”غ“ نوں سمجھ نہ جاناں
گل الفِ سمجھائی
بُلّھیا، قول الف دے پورے
جیڑے دل دی کرن صفائی
بلھے شاہ

Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

Sign in to follow this