Sign in to follow this  
Followers 0
  • entries
    351
  • comments
    2
  • views
    18,044

About this blog

Urdu shairy ki duniya. This blog has RSS of latest shairy o shairy topics from fundayforum.com.

If you are poetry lover please share here your fav poetry in comments. 

( Fundayforum.com)

fdwatermarkfd.png

Entries in this blog

WaQaS DaR

بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں کیوں کر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں کیوں یاد نہ رکّھوں تجھے اے دُشمنِ پنہاں! آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا کہنے کو تو اِس دور میں انسان بہت ہیں اللہ ! اِسے پار لگائے تو لگائے کشتی مِری کمزور ہے طوفان بہت ہیں دیکھیں تجھے، یہ ہوش کہاں اہلِ نظر کو تصویر تِری دیکھ کر حیران بہت ہیں ارمانوں کی اِک بھیڑ لگی رہتی ہے دن رات دل تنگ نہیں، خیر سے مہمان بہت ہیں یُوں ملتے ہیں، جیسے نہ کوئی جان نہ پہچان دانستہ نصیرؔ آج وہ انجان بہت ہیں


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

شکوہ جوابِ شکوہ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس وحشتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ جان لیوا دہشتیں ہیں عشق میں دیکھا جو میں نے جھانک کر حیرت کدوں میں بارہا دیکھی نہیں ہیں باخدا جو حیرتیں ہیں عشق میں ان کی حزینِ داستاں سن کر بڑا ہی دکھ ہوا ساری کی ساری لٹ گئیں جو راحتیں ہیں عشق میں وعدہ وفا کی آڑ میں کرتے رہے بیوپار جو ہیں تخمِ ناہنجار لوٹیں عصمتیں ہیں عشق میں بے چینیوں کا طبل بجتا ہی رہا دل میں مرے یہ جھوٹ ہے کہتے ہیں جو کہ راحتیں ہیں عشق میں مقتل میں جا کے روٹھ بیٹھے ہیں مرے ارمانِ دل پالا تھا ہم کو شوق سے کہ چاہتیں ہیں عشق میں ان کی جفاوؑں کا صنم جب بھی ہوا ہے تذکرہ دلبر گماں ہوتا رہا بس نفرتیں ہیں عشق میں جوابِ شکوہ : عمرِ درازی کی صنم بس راحتیں ہیں عشق میں ہر ایک لمحہ یار کی بس چاہتیں ہیں عشق میں حیرت کدوں میں جھانک کر دیکھا تو ہے تُو نے صنم حیران ہے جن سے جہاں وہ حاجتیں ہیں عشق میں کہتے نہیں اس کو حزیں یہ دلبری شیوہ نہیں دلدار پر کردو فدا جو راحتیں ہیں عشق میں بیوپار جو کرتے رہے جسموں پہ وہ مرتے رہے نفسِ طلب کی باخدا کب حاجتیں ہیں عشق میں دلدار کو دلدار سے فرصت کبھی ملتی نہیں اک پل قضا ہوتا نہیں وہ ساعتیں ہیں عشق میں پالا ہے جن کو شوق سے میرے جنونِ عشق نے ارمانِ دل وہ آج سارے قربتیں ہیں عشق میں جب بھی وصالِ یار کا دلبر گماں ہوتا رہا کامل یقیں ہوتا رہا کہ صحبتیں ہیں عشق میں


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

گناہ زانیوں کے پاس نئی نئی دلیلیں ہیں نئے نئے الفاظ ہیں بے شمار جواز ہیں بدلتے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر یہ نئے قصے سناتے ہیں سوچ کے نئے زاویے تلاش کرتے ہیں اضطراب کا ایک ہی حل سوچتے ہیں بدبودار لمحات کو بستر کی سلو ٹوں میں سوۓ پوشیدہ تجربات کو شراب کے بُو میں گھول لیتے ہیں پھر اسُ لمحے تھوڑ ا سا سچ بھی بول لیتے ہیں گزرے لذت آشنا تجربات کا بھید بھی کھول لیتے ہیں کسی نئے بدن کی خوشبو میں گمُ میقاس الشباب سے پُر کیف لمحات تک شراب کے جام سے ناف تک راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں دلدل میں اُترتے قدموں کے واسطے کوئی جواز بھی سوچ لیتے ہیں حوا کے بیٹے بنت ِ حوا سے کھیل لیتے ہیں ۔۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

غزل

غزل دیواروں پہ کیا لکھا ہے شہر کا شہر ہی سوچ رہا ہے غم کی اپنی ہی شکلیں ہیں درد کا اپنا ہی چہرہ ہے عشق کہانی بس اتنی ہے قیس کی آنکھوں میں صحرا ہے کو زہ گر نے مٹی گوندھی چاک پہ کوئی اور دھرا ہے عنبر تیرے خواب ادھورے تعبیروں کا بس دھوکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نادیہ عنبر لودھی اسلام آباد


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

کوئی دھوپ چھاؤں کا موسم ہو. اور مدھم مدھم بارش ہو💕 ہم گہری سوچ میں بیٹھے ہوں سوچوں میں سوچ تمھاری ہو💕 اُس وقت تم ملنے آجاؤ اور خوشی سے پلکیں بھاری ہو💕 ہم تم دونوں خاموش رہیں اور زباں پہ آنکھیں ہاوی ہو💕 تم تھام لو میرے ہاتھوں کو اور لفظ زباں سے جاری ہوں💕 میں تم سے محبت کرتی ہوں اور جذبوں میں سرشاری ہو💕 ہاتھوں کی لیکریں مل جائیں سنگ چلنے کی تیاری ہو💕 سب خوابوں کو تعبیر ملے اور ہم پر خوشیاں واری ہو💕 کوئی دھوپ چھاؤں کا موسم ہو اور مدھم مدھم بارش ہو💕


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

تم ابرِ گریزاں ہو میں صحرا کی مانند ہوں دو بوند جو برسو گے بے کار میں برسو گے ہے خشک بہت مٹی ہر سمت بگولے ہیں صحرا کے بگولوں سے اٹھتے ہوئے شعلے ہیں تم کھل کہ اگر برسو تو صحرا میں گلستاں ہو پر تم سے کہیں کیسے تم ابرِ گریزاں ہو جل تھل جو اگر کر دو تن من میں نمی بھر دو ہے خشک بہت مٹی پوری جو کمی کر دو پھر تم کو بتائیں گے تم میری محبت ہو لیکن تم تو ابرِ گریزاں ہو اور میں صحرا کی مانند ہوں تم ابرِ گریزاں ہو تم ابرِ گریزاں ہو


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

hijab e rang

کتاب ِ عمر کے دلگیر باب میں مجھے مل یا میری نیند میں آ اپنے خواب میں مجھے مل مرے گماں پہ اتر پھر حنا کا رنگ لیے پھر اپنے بالوں کے دلکش گلاب میں مجھے مل مل ایک بار مجھے وقت کی حدوں سے پرے مل ایک بار تو اپنی جناب میں مجھے مل خدا کے ہونے کی تو بھی تو اک نشانی ہے کسی بھی رنگ کسی بھی حجاب میں مجھے مل بگُولہ بن کے ترے اِرد گِرد پھرنے لگوں کبھی تو دشت میں آ اور سراب میں مجھے مل سکوت ِ ذات سے چٹخے سماعتوں کے بدن کسی صدا کے چھلکتے حباب میں مجھے مل خرد خمیر ہوں حیرت کے باب میں مجھے چُن جنوں طلسم کی نمکیں شراب میں مجھے مل


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

My State of Mind" In the midst of a serious fight, I get reminded of this transcient life. Why do I coddle my ego and pride? Why do I hesitate to tell, they are my truest delight? I wanted to come forward. To express my love, apologise for my mistakes and let them know how much they are meant! But, then and there only, ‘Why me’ and ‘why can’t they’ was the question I posed to myself, And it instantly changed my mind. To choose between love and pride became a plight. And this is how I lost the most important battles of my life. Oh! I regret, I had time… but… I missed… A thousand occasions, I left, Thinking that a thousand more I will get. But life is not always the same, And now I deserve to be blamed. I wasted years thinking that I am selfish, This feeling of regret cannot be replenished. I then, made a promise to repent for my mistakes, To choose love and prevent all sort of heart aches. I started putting my emotions naked to the people I loved, And what they did? Took advantage of it, made me realise I am not their worth. Repent, Repent, Repent and Remorse! © Sadiya Jalal


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں لاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیں خود فریبی ہی سہی کیا کیجئے دل کا علاج تو نظر پھیرے تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں ایک دنیا منتظر ہے اور تیری بزم میں اس طرح بیٹھے ہیں ہم جیسے کہیں جانا نہیں جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں احمد فراز


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

نفع کی صورت ہؤا ، جتنا بھی خمیازہ ہؤا ، غم سہا جاتا ہے کیسے، ہم کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ زندگی درویش کی مانند ہی میں نے کاٹ دی جب سے مجھ پہ بند اُس کے گھر کا دروازہ ہؤا ۔۔۔ موسمٍ گل! تیرا آنا بھی سزا سے کم نہیں ، وقت نے جو بھر دیا تھا ، زخم پھر تازہ ہؤا ۔۔۔ فکر کا سیاح میرے جیتے جی لوٹا نہیں ، جو مرے احساس میں باقی تھا شیرازہ ہؤا ۔۔۔ ایسا لگتا ہے دُعا مقبول میری ہو گئ! آج اپنی حیثیت کا مجھ کو اندازہ ہؤا ۔۔۔ مصلحت کوشی تجھے منزل تلک لے جائے گی! روح کی گہرائیوں میں ایسا آوازہ ہؤا ۔۔۔ تیرے چہرے کی اُداسی وہ چھپا سکتا ہے اب ، آجکل ایجاد پارس ایسا بھی غازہ ہؤا ۔۔۔!


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

کیا بات بتائیں لوگوں کی ۔۔۔۔ دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی!! کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں، دنیا کو سنانے کے قابل۔۔۔۔ کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں، بس دل میں چھپانے کے قابل۔۔۔۔ کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں، اک بار گئے تو آتے نہیں۔۔۔۔ ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں، پرچھائیں بھی انکی پاتے نہیں۔۔ کچھ لوگ خیالوں کے اندر، جذبوں کی روانی ہوتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح، پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں، کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں۔۔ کچھ ڈوبنے والی جانوں کو، تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ، کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا۔۔۔۔ کچھ لوگ مثال ابر رواں، کچھ اونچے درختوں کا سایہ۔۔۔۔ کچھ لوگ چراغوں کی صورت، راہوں میں اجالا کرتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ اندھیروں کی کالک چہرے پر اچھالا کرتے ہیں۔۔۔۔ کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں، دو گام چلے اور رستے الگ۔۔۔۔ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا، ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ۔۔۔۔


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

"لفظوں کے تھکے لوگ" ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے درد دل میں چھپا کے رکھتے ہیں آنکھ ویراں ہے اس طرح ان کی جیسے کچھ بھی نہیں رہا اس میں نہ کوئی اشک نہ کوئی سپنا نہ کوئی غیر نہ کوئی اپنا پپڑیاں ہونٹ پر جمی ایسی جیسے صدیوں کی پیاس کا ڈیرہ جیسے کہنے کو کچھ نہیں باقی درد سہنے کو کچھ نہیں باقی اجنبیت ہے ایسی نظروں میں کچھ بھی پہچانتے نہیں جیسے کون ہے جس سے پیار تھا ان کو کون ہے جس سے کچھ عداوت تھی کون ہے جس سے کچھ نہیں تھا مگر ایک بے نام سی رفاقت تھی سوکھی دھرتی کو ابر سے جیسے ایسی انجان سی محبت تھی رنگ بھرتے تھے سادہ کاغذ پر اپنے خوابوں کو لفظ دیتے تھے اپنی دھڑکن کی بات لکھتے تھے دل کی باتوں کو لفظ دیتے تھے اس کے ہونٹوں سے خامشی چن کو اس کی آنکھوں کو لفظ دیتے تھے چاندنی کی زباں سمجھتے تھے چاند راتوں کو لفظ دیتے تھے ایک مدت سے کچھ نہیں کہتے اپنے جذبوں سے تھک گئے جیسے اپنے خوابوں سے تھک گئے جیسے دل کی باتوں سے تھک گئے جیسے اس کی آنکھوں سے تھک گئے جیسے چاند راتوں سے تھک گئے جیسے ایسے خاموشیوں میں رہتے ہیں اپنے لفظوں سے تھک گئے جیسے


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

جون ایلیا زمانے بھر کو اداس کر کے خوشی کا ستیا ناس کر کے میرے رقیبوں کو خاص کر کے بہت ہی دوری سے پاس کر کے تمہیں یہ لگتا تھا جانے دیں گے ؟ سبھی کو جا کے ہماری باتیں بتاؤ گے اور بتانے دیں گے ؟ تم ہم سے ہٹ کر وصالِ ہجراں مناؤ گے اور منانے دیں گے ؟ میری نظم کو نیلام کر کے کماؤ گے اور کمانے دیں گے ؟ تو جاناں سن لو اذیتوں کا ترانہ سن لو کہ اب کوئی سا بھی حال دو تم بھلے ہی دل سے نکال دو تم کمال دو یا زوال دو تم یا میری گندی مثال دو تم میں پھر بھی جاناں ۔۔۔۔۔۔۔! میں پھر بھی جاناں ۔۔۔ پڑا ہوا ہوں ، پڑا رہوں گا گڑا ہوا ہوں ، گڑا رہوں گا اب ہاتھ کاٹو یا پاؤں کاٹو میں پھر بھی جاناں کھڑا رہوں گا بتاؤں تم کو ؟ میں کیا کروں گا ؟ میں اب زخم کو زبان دوں گا میں اب اذیت کو شان دوں گا میں اب سنبھالوں گا ہجر والے میں اب سبھی کو مکان دوں گا میں اب بلاؤں گا سارے قاصد میں اب جلاؤں گا سارے حاسد میں اب تفرقے کو چیر کر پھر میں اب مٹاؤں گا سارے فاسد میں اب نکالوں گا سارا غصہ میں اب اجاڑوں گا تیرا حصہ میں اب اٹھاؤں گا سارے پردے میں اب بتاؤں گا تیرا قصہ مزید سُن لو۔۔۔ او نفرتوں کے یزید سن لو میں اب نظم کا سہارا لوں گا میں ہر ظلم کا کفارہ لوں گا اگر تو جلتا ہے شاعری سے تو یہ مزہ میں دوبارہ لوں گا میں اتنی سختی سے کھو گیا ہوں کہ اب سبھی کا میں ہو گیا ہوں کوئی بھی مجھ سا نہی ملا جب خود اپنے قدموں میں سو گیا ہوں میں اب اذیت کا پیر ہوں جی میں عاشقوں کا فقیر ہوں جی کبھی میں حیدر کبھی علی ہوں جو بھی ہوں اب اخیر ہوں جی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

کیا حال سنائیں دُنیا کا کیا بات بتائیں لوگوں کی دنیا کے ہزاروں موسم ہیں لاکھوں ہیں ادائیں لوگوں کی کچھ لوگ کہانی ہوتے ہیں دنیا کو سنانے کے قابل کچھ لوگ نشانی ہوتے ہیں بس دل میں چھپانے کے قابل کچھ لوگ گزرتے لمحے ہیں اک بار گئے تو آتے نہیں ہم لاکھ بلانا بھی چاہیں پرچھائی بھی انکی پاتے نہیں کچھ لوگ خیالوں کے اندر جذبوں کی روانی ہوتے ہیں کچھ لوگ کٹھن لمحوں کی طرح پلکوں پہ گرانی ہوتے ہیں کچھ لوگ سمندر گہرے ہیں کچھ لوگ کنارا ہوتے ہیں کچھ ڈوبنے والی جانوں کو تنکوں کا سہارا ہوتے ہیں کچھ لوگ چٹانوں کا سینہ کچھ ریت گھروندہ چھوٹا سا کچھ لوگ مثال ابر رواں کچھ اونچے درختوں کا سایہ کچھ لوگ چراغوں کی صورت راہوں میں اجالا کرتے ہیں کچھ لوگ اندھیروں کی کالک چہرے پر اچھالا کرتے ہیں کچھ لوگ سفر میں ملتے ہیں دو گام چلے اور رستے الگ کچھ لوگ نبھاتے ہیں ایسا ہوتے ہی نہیں دھڑکن سے الگ کیا حال سنائیں اپنا تمہیں کیا بات بتائیں جیون کی اک آنکھ ہماری ہستی ہے اک آنکھ میں رت ہے ساون کی ہم کس کی کہانی کا حصہ ہم کس کی دعا میں شامل ہیں ہے کون جو رستہ تکتا ہے ہم کس کی وفا کا حاصل ہیں کس کس کا پکڑ کر دامن ہم اپنی ہی نشانی کو پوچھیں ہم کھوئے گئے کن راہوں میں اس بات کو صاحب جانے دیں کچھ درد سنبھالے سینے میں کچھ خواب لٹائے ہیں ہم نے اک عمر گنوائی ہے اپنی، کچھ لوگ کمائے ہیں ہم نے دل خرچ کیا ہے لوگوں پر جان کھوئی ہے غم پایا ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے اپنا تو یہی سرمایہ ہے


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

اسے کہنا محبت یوں بھی ہوتی ہے مہینوں رابطہ نہ ہو بھلےبرسوں قبل دیکھا ہو ہم نے ایک دوجے کو مگر پھر بھی سلامت ھی یہ رہتی ہے یہ برگ و بار لاتی ہے اسے کہنا مجھے اس سے محبت ہے کہ جیسے پھول کا خوشبو سے اک انجان رشتہ ہے اسے کہنا محبت میں کبھی وہ پھول بن جائے کبھی خوشبو وہ بن جائے اسے کہنا محبت میں ہے کوئی تیسرا بھی جو محبت کی وجہ بھی ہے کہ جس پھوٹتے ہیں پیار کے سارے ہی سرچشمے اسے کہنا کہ دنیا میں نہ جانے کب ملیں گے ہم مگر روز حشر ہم ساتھ ہوں گے عرش کے نیچے ہاں اس کے عرش کے نیچے جو میرا اور تمہارا اور محبت کا خدا بھی ہے


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

Tera Ehsas chuno

میں لفظ چُنوں .. دلکش چُنوں پھر ان سے تیرا احساس بُنوں تجھے لکھوں میں دھڑکن اس دل کی یا تجھ کو ابر کی رم جھم لکھوں ستاروں کی عجب جھلمل کبھی پلکوں کی تجھے شبنم لکھوں .. کبھی کہہ دوں تجھے میں جاں اپنی کبھی تجھ کو میں اپنا محرم لکھوں کبھی لکھ دوں تجھے ہر درد اپنا کبھی تجھ کو زخم کا مرہم لکھوں تو زیست کی ہے امید میری میں تجھ کو خوشی کی نوید لکھوں لفظوں پہ نگاہ جو ڈالوں کبھی ہر لفظ کو بیاں سے عاجز لکھوں! میں تجھ کو تکوں.. تکتی جاؤں میں تجھ کو میری تمہید لکھوں! تو گفت ہو میرے اس دل کی.. میں تجھ کو فقط شنید لکھوں....


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

ھُوں مَیں احوال فراموش مِرے ساتھ رھو آج سچ مُچ ھُوں مَیں بےہوش مِرے ساتھ رھو میری مستی کو ہے آغوشِ محبّت کی ھوَس اور نایاب ہے آغوش مِرے ساتھ رھو اے مِرے ہم نفسانِ روِش نیم شبی ھوچُکی بادہ سر جوش مِرے ساتھ رھو بس سُنے جاؤ تُمھاری ھی کہے جاؤں گا میرے یارو ہمہ تن گوش مِرے ساتھ رھو خواب کی شب کا ھُوں مَیں ھی تو بس خوش گُفتار خواب کے شہر میں خاموش مِرے ساتھ رھو کیا خبر راہ میں مُجھ سے کوئی سر ٹکرا دے ھوں گے کُچھ اور بھی مدھوش مِرے ساتھ رھو پی کے آیا تھا مَیں پھر ساتھ تمھارا بھی دیا میکشو تُم کہ ھو کم نوش مِرے ساتھ رھو وعدہء شام کا مطلب ہے سَحر کا وعدہ وہ ہے اِک وعدہ فراموش مِرے ساتھ رھو تُم مِرے ساتھ رھو مست خیالو تم کو فِکر فردا نہ غم دوش مِرے ساتھ رھو۔۔۔! جونؔ ایلیا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

this is the full opportunity given to the wise people in Africa Are you frustrated in life. What type of wealth do you want? Today the black cart has order us to bring member to his kingdom. Are you tired of poverty and now you want fame,power and riches.Our magical powers are beyond your imagination. we could do magic on your behalf regarding , your financial situation, future events, or whatever is important to you. we have the power and we use the power. we are black cart brotherhood and we could change the course of destiny. Get to us and we shall help you. Tell us what it is you want and we shall go about our work. Is it someone or something you desire to have? Do you want wealth(Want to grow your bank account?, Need funds to enjoy the good life? Tired of working hard and getting nothing, the most power society welcomes you to black cart brotherhood. contact initiation home +2347087521893 FOR 'i want to join occult in Nigeria' 'i want to join real occult in Ghana' 'i want to join occult in Africa to be rich' 'i want to join an occult for money and power' 'i want to join an occult for wealth and protection' 'i want to join good occult fraternity in Nigeria' 'i want to join great BLACK CART in Nigeria to be rich' 'i want to join BLACK CART occult in Nigeria/Africa' 'i want to join BLACK CART brotherhood in Nigeria' we are now here for you


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

رَنـــجِ فـــراقِ یار میں رُســــوا نہیں ہُوا اتنا مــــیں چُپ ہُوا کہ تماشہ نہیں ہُوا ایساسفر ہےجس میں کوئی ہمسفر نہیں رستہ ہے اس طــرح کا کہ دیکھا نہیں ہُوا مشکل ہُوا ہے رہنا ہمـــیں اِس دیار مــیں برسوں یہاں رہے ہـــیں ، یہ اپنا نہیں ہُوا وہ کام شاہِ شــہر سے یا شــہر سے ہُوا جــو کام بھی ہُوا ، یـــہاں اچھا نہیں ہُوا ملنا تھا ایک بار اُسے پھـــر کہیں ' منیرؔ ایسا مـــیں چاھتا تھا، پر ایسا نہیں ہُوا؎! منیر نیازی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

یہ معجزہ بھی محبّت کبھی دِکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گِرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہُوں سائے کو بدن مِرا ہی سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے بَرنگِ عَود مِلے گی اُسے مِری خوشبُو وہ جب بھی چاہے، بڑے شوق سے جَلائے مجھے میں گھر سے، تیری تمنّا پہن کے جب نِکلوں برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نُکتہ چِیں میرا جو مُسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دِل سے نِکالوں خیال کِس کِس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گُزار کر تِری زُلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے، سارے جہاں‌ کو ہے معلوُم دَغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہْرباں ہے، تو اِقرار کیوں نہیں کرتا وہ بدگُماں ہے، تو سو بار آزمائے مجھے میں اپنی ذات میں نِیلام ہو رہا ہُوں، غمِ حیات سے کہہ دو خرِید لائے مجھے - قتیل شفائی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

دشوار

کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں پھول ہونا ہی نہیں پھول نظر آنا بھی دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی بھول جائے گا یہ اک دن ترا یاد آنا بھی جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں تیرا ہونا بھی نہیں اور ترا کہلانا بھی خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا بھول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہوگا وسیمؔ اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

تُو سمجھتا ہے محبت سے گزر جائے گا ؟ تُو جو نکلے گا کناروں سے تو مر جائے گا یہ ضروری تو نہیں ہجر کے لمحات گنوں "وقت کا کیا ہے، گزرتا ہے، گزر جائے گا" یہ ترے بس کا نہیں روگ، میاں چھوڑ اسے تُو بدن چاٹ کے الفت سے مکر جائے گا میرے رونے سے سمندر میں اضافہ نہ سہی کم سے کم آنکھ کا دریا تو اتر جائے گا اے مرے عکسِ جنوں دیکھ مرے چہرے کو تُو بھی خاموش رہے گا تو بکھر جائے گا قیس کو قیس نما اور مجھے قیس کہا میں نہ کہتا تھا مجھے دیکھ کے ڈر جائے گا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

دل کی تکلیف کم نہیں کرتے اب کوئی شکوہ ہم نہیں کرتے جان جاں تجھ کو اب تیری خاطر یاد ہم کوئی دم نہیں کرتے دوسری ہار کی ہوس ہے سو ہم کو سر تسلیم خم نہیں کرتے وہ بھی پڑھتا نہیں ہے اب دل سے ہم بھی نالے کو نم نہیں کرتے جرم میں ہم کمی کریں بھی تو کیوں تم سزا بھی تو کم نہیں کرتے جون ایلیاء


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

Sign in to follow this  
Followers 0