Sign in to follow this  
  • entries
    383
  • comments
    2
  • views
    19,593

About this blog

Urdu shairy ki duniya. This blog has RSS of latest shairy o shairy topics from fundayforum.com.

If you are poetry lover please share here your fav poetry in comments. 

( Fundayforum.com)

fdwatermarkfd.png

Entries in this blog

 

عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا

عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا جو میری آنکھ سے ٹپکا، تیرا آنسو ہو گا ایک پَل کو تیری یاد آئے تو مَیں سوچتا ہوُں خواب کے دشت میں بھٹکا ہوُا آہُو ہو گا تجھ کو محسوس کروں، مس نہ مگر کر پاؤں کیا خبر تھی کہ تو اِک پیکرِ خوشبو ہو گا اب سمیٹا ہے تو پھر مُجھ کو ادھُورا نہ سمیٹ زیرِ سر سنگ نہ ہو گا، میرا بازُو ہو گا مجھ کو معلوُم نہ تھی ہجر کی یہ رمز، کہ توُ جب میرے پاس نہ ہو گا تو ہر سُو ہو گا اِس توقّع پہ مَیں اب حشر کے دن گِنتا ہوُں حشر میں، اور کوئی ہو کہ نہ ہو، تُو ہو گا احمد ندیم قاسمی
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

Sath Chalte Ja Rahe Hain - Basheer Badar

ساتھ چلتے جا رہے ہیں ساتھ چلتے جا رہے ہیں پاس آ سکتے نہیں اک ندی کے دو کناروں کو ملا سکتے نہیں دینے والے نے دیا سب کچھ عجب انداز سے سامنے دنیا پڑی ہے اور اٹھا سکتے نہیں اس کی بھی مجبوریاں ہیں میری بھی مجبوریاں روز ملتے ہیں مگر گھر میں بتا سکتے نہیں کس نے کس کا نام اینٹوں پر لکھا ہے خون سے اشتہاروں سے یہ دیواریں چھپا سکتے نہیں راز جب سینے سے باہر ہو گیا اپنا کہاں ریت پر بکھرے ہوئے آنسو اٹھا سکتے نہیں آدمی کیا ہے گزرتے وقت کی تصویر ہے جانے والے کو صدا دے کر بلا سکتے نہیں شہر میں رہتے ہوئے ہم کو زمانہ ہو گیا کون رہتا ہے کہاں کچھ بھی بتا سکتے نہیں اس کی یادوں سے مہکنے لگتا ہے سارا بدن پیار کی خوشبو کو سینے میں چھپا سکتے نہیں پتھروں کے برتنوں میں آنسووں کو کیا رکھیں پھول کو لفظوں کے گملوں میں کھلا سکتے نہیں بشیر بدر
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

آؤ ذکر کریں

آؤ ذکر کریں آؤ ذکر کریں کچھ لمحوں کا اک چائے پیئں' اک چائے جيئں اک مگ ھو بھاپ اُڑاتا ھوا اک مگ ھو ساتھ نبھاتا سا کچھ مدھم سى سرگوشی میں بس ھوا کى آہٹ آتى ھو کچھ تم چپ ھو کچھ میں نہ کہوں بس ھم تم ھوں دو مگ شگ ھوں کچھ دھواں دھواں سا اٹھتا ھو اور سامنے رکھے عشق کے مگ يعنى چائے کے مگ اک گھونٹ بھریں دو سانس رکيں پل دو پل میں صدياں گزریں آؤ ذکر کریں آؤ چائے پیئں میری چائے میں تیرتے پتى کے کچھ دانے شانے سير پہ ھوں تیرى چائے میں ميٹھا رقص پہ ھو میری چائے کو تیرى نٹھ کھٹ سے تھوڑا دور رکھوں حل چل نہ ھو گڑ بڑ نہ ھو تیرى چائے کو اتنى خبر بھى ھو میری چائے کو میٹھا پسند نہیں تیرى چائے کا رنگ تھوڑا گہرا ہے تھوڑا ٹھہرا ہے میری چائے کا رنگ بڑا گدلا سا کچھ گاڑھا سا تھوڑا کڑوا سا میں سپ سپ کر کے جان بھروں تم گھونٹ گھونٹ میں ختم کرو ديکھو صبر کرو يہ چائے ھے... کونسا گھڑياں ہیں؟ کہ ختم کرو... تھوڑا صبر کرو چلو چھوڑو اب یہ نوک جھونک باتیں شاتيں کہيں تھک نہ جائیں خاموشى کى زباں میں بول کے ھم اور چائے آؤ چائے پیئں آؤ ذکر کریں کچھ دیر اس دنیا سے کٹ کر بس اپنی اپنی بات کریں تیرى گمشدگی مجھے راس نہیں آؤ اک دوجے میں سو جائیں آؤ چائے پیئں اور کھو جائیں کوئی رقص ھو بسمل بسمل سا کوئی تال بجے،،،کسى ساز پہ ھم دو چائے کے آخرى گھونٹ بھریں صدياں جى ليں دنیا بھوليں آؤ چائے پیئں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ﺗﻢ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ

ﺗﻢ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﺨﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﺗﺎﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﻭ ! ﮐﮧ ﻻﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ؟ ﺗﻢ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺫﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﮐﺎﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ؟ ﯾﺎ ﻓﻘﻂ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﮨﮯ ﻣﺮﻭّﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﮧ ﺗﻢ ﭼَﮭﻠﻨﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﭼﮭﺎﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺩﻭ ﮔﮭﮍﯼ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﭘﯿﺎﺭ ﻭﺍﻟﮯ ! ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﺍُﻥ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮨﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻦ ﻏﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﯾﺎﺭ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺩﮐﮫ ﯾﺎﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺎﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﭽﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ﻭﺍﮦ ﮨﺎﮞ ، ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺭﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺣﺮ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﺪ ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺍﻧﺎﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮ
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

بہت ہی مان ہے تم پر

بہت ہی مان ہے تم پر بہت ہی مان ہے تم پر سنو پاسِ وفا رکھنا سبھی سے تم ملو لیکن ذرا سا فاصلہ رکھنا بچھڑ جانا بھی تو پڑتا ہے ذرا سا حوصلہ رکھنا وہ سارے وصل کے لمحے تم آنکھوں میں سجا رکھنا ابھی تو امکان باقی ہے ابھی لب پہ دعا رکھنا بہت نایاب ہیں دیکھو ہمیں سب سے جدا رکھنا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

. . . .اگر اجازت ہو

تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو میں دل کسی سے لگا لوں اگراجازت ہو تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو تمہاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی کچھ اپنا حال سنبھالوں اگر اجازت ہو جون ایلیا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

Dard e tanhai

اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں چار سو گونجتی رسوائی کسے کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو کوئی لمحہ ہو تِری یاد میں کھو جاتے ہیں اب تو خود کو بھی میسر نہیں آپاتے ہیں رات ہو دن ہو ترے پیار میں ہم بہتے ہیں درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں اَب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو جو بھی غم آئے اُسے دل پہ سہا کرتے تھے ایک وہ وقت تھا ہم مل کے رہا کرتے تھے اب اکیلے ہی زمانے کے ستم سہتے ہیں درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو ہم نے خوداپنے ہی رستے میں بچھائے کانٹے گھر میں پھولوں کی جگہ لاکے سجائے کانٹے زخم اس دِل میں بسائے ہوئے خود رہتے ہیں درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسی کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو یوں تو دنیا کی ہر اک چیزحسیں ہوتی ہے پیار سے بڑھ کے مگر کچھ بھی نہیں ہوتی ہے راستہ روک کے ہر اک سے یہی کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا ہے ہم کو درد کیا ہوتا ہے تنہائی کسے کہتے ہیں چار سو گونجتی رسوائی کسے کہتے ہیں اب جو بچھڑے ہیں تو……….!!
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا www.fundayforum.com
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے اس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں ایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا وہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار پوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گل ہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے جس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔ ڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل

اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل کم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھ مانند جوش غم نہ زیادہ ابل کے چل فرصت ہے اک صدا کی یہاں سوز دل کے ساتھ اس پر سپند وار نہ اتنا اچھل کے چل یہ غول وش ہیں ان کو سمجھ تو نہ رہ نما سائے سے بچ کے اہل فریب و دغل کے چل اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل انساں کو کل کا پتلا بنایا ہے اس نے آپ اور آپ ہی وہ کہتا ہے پتلے کو کل کے چل پھر آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم کہتا ہے کون تجھ کو نہ چل چل سنبھل کے چل ہے طرفہ امن گاہ نہاں خانۂ عدم آنکھوں کے روبرو سے تو لوگوں کے ٹل کے چل کیا چل سکے گا ہم سے کہ پہچانتے ہیں ہم تو لاکھ اپنی چال کو ظالم بدل کے چل ہے شمع سر کے بل جو محبت میں گرم ہو پروانہ اپنے دل سے یہ کہتا ہے جل کے چل بلبل کے ہوش نکہت گل کی طرح اڑا گلشن میں میرے ساتھ ذرا عطر مل کے چل گر قصد سوئے دل ہے ترا اے نگاہ یار دو چار تیر پیک سے آگے اجل کے چل جو امتحان طبع کرے اپنا اے ظفرؔ تو کہہ دو اس کو طور پہ تو اس غزل کے چل
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

اس گلی کے لوگوں کو منہ لگا کے پچھتائے

اس گلی کے لوگوں کو منہ لگا کے پچھتائے ایک درد کی خاطر کتنے درد اپنائے تھک کے سو گیا سورج شام کے دھندلکوں میں آج بھی کئی غنچے پھول بن کے مرجھائے ہم ہنسے تو آنکھوں میں تیرنے لگی شبنم تم ہنسے تو گلشن نے تم پہ پھول برسائے اس گلی میں کیا کھویا اس گلی میں کیا پایا تشنہ کام پہنچے تھے تشنہ کام لوٹ آئے پھر رہی ہیں آنکھوں میں تیرے شہر کی گلیاں ڈوبتا ہوا سورج پھیلتے ہوئے سائے جالبؔ ایک آوارہ الجھنوں کا گہوارہ کون اس کو سمجھائے کون اس کو سلجھائے
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں

باتیں تو کچھ ایسی ہیں کہ خود سے بھی نہ کی جائیں سوچا ہے خموشی سے ہر اک زہر کو پی جائیں اپنا تو نہیں کوئی وہاں پوچھنے والا اس بزم میں جانا ہے جنہیں اب تو وہی جائیں اب تجھ سے ہمیں کوئی تعلق نہیں رکھنا اچھا ہو کہ دل سے تری یادیں بھی چلی جائیں اک عمر اٹھائے ہیں ستم غیر کے ہم نے اپنوں کی تو اک پل بھی جفائیں نہ سہی جائیں جالبؔ غم دوراں ہو کہ یاد رخ جاناں تنہا مجھے رہنے دیں مرے دل سے سبھی جائیں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

تنہائی کا دکھ گہرا تھا

تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا روتا تھا ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایا دیر سے میرے ساتھ لگا تھا چھوڑ گئے جب سارے ساتھی تنہائی نے ساتھ دیا تھا سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی تنہائی کا پھول کھلا تھا تنہائی میں یاد خدا تھی تنہائی میں خوف خدا تھا تنہائی محراب عبادت تنہائی منبر کا دیا تھا تنہائی مرا پائے شکستہ تنہائی مرا دست دعا تھا وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا تنہائی مرے دل کی جنت میں تنہا ہوں میں تنہا تھا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

تنہائی کا دکھ گہرا تھا

تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا روتا تھا ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایا دیر سے میرے ساتھ لگا تھا چھوڑ گئے جب سارے ساتھی تنہائی نے ساتھ دیا تھا سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی تنہائی کا پھول کھلا تھا تنہائی میں یاد خدا تھی تنہائی میں خوف خدا تھا تنہائی محراب عبادت تنہائی منبر کا دیا تھا تنہائی مرا پائے شکستہ تنہائی مرا دست دعا تھا وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا تنہائی مرے دل کی جنت میں تنہا ہوں میں تنہا تھا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا

ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے عہد آوارگی میں کیا کچھ تھا آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے عالم بے خودی میں کیا کچھ تھا یاد ہیں مرحلے محبت کے ہائے اس بیکلی میں کیا کچھ تھا کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا کتنے مانوس لوگ یاد آئے صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں

جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں وہ نکلے ميرے ظلمت خانہ دل کے مکينوں ميں حقيقت اپني آنکھوں پر نماياں جب ہوئي اپني مکاں نکلا ہمارے خانہ دل کے مکينوں ميں اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہہ سائي سے تو سنگ آستاں کعبہ جا ملتا جبينوں ميں کبھي اپنا بھي نظارہ کيا ہے تو نے اے مجنوں کہ ليلی کي طرح تو خود بھي ہے محمل نشينوں ميں مہينے وصل کے گھڑيوں کي صورت اڑتے جاتے ہيں مگر گھڑياں جدائي کي گزرتي ہيں مہينوں ميں مجھے روکے گا تو اے ناخدا کيا غرق ہونے سے کہ جن کو ڈوبنا ہو ، ڈوب جاتے ہيں سفينوں ميں چھپايا حسن کو اپنے کليم اللہ سے جس نے وہي ناز آفريں ہے جلوہ پيرا نازنينوں ميں جلا سکتي ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کي الہي! کيا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سينوں ميں تمنا درد دل کي ہو تو کر خدمت فقيروں کي نہيں ملتا يہ گوہر بادشاہوں کے خزينوں ميں نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کي ، ارادت ہو تو ديکھ ان کو يد بيضا ليے بيٹھے ہيں اپني آستينوں ميں ترستي ہے نگاہ نا رسا جس کے نظارے کو وہ رونق انجمن کي ہے انھي خلوت گزينوں ميں کسي ايسے شرر سے پھونک اپنے خرمن دل کو کہ خورشيد قيامت بھي ہو تيرے خوشہ چينوں ميں محبت کے ليے دل ڈھونڈ کوئي ٹوٹنے والا يہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہيں نازک آبگينوں ميں سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق بھلا اے دل حسيں ايسا بھي ہے کوئي حسينوں ميں پھڑک اٹھا کوئي تيري ادائے 'ما عرفنا' پر ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرينوں ميں نماياں ہو کے دکھلا دے کبھي ان کو جمال اپنا بہت مدت سے چرچے ہيں ترے باريک بينوں ميں خموش اے دل! ، بھري محفل ميں چلانا نہيں اچھا ادب پہلا قرينہ ہے محبت کے قرينوں ميں برا سمجھوں انھيں مجھ سے تو ايسا ہو نہيں سکتا کہ ميں خود بھي تو ہوں اقبال اپنے نکتہ چينوں ميں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

Shohar lakh bhala chahye tu kaya huta hy - Funny poetry

شوہر لاکھ بھلا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو بیگم نے کہا ہوتا ہے غم ہو کس بات کا بیگم کو خریداری کا بل تو شوہر کے ہی بٹوے سے ادا ہوتا ہے درد جوڑوں کا بس جوڑے ہی جانتے ہیں اور اس درد کا درماں بھی کہاں ہوتاہے ایک طرف ماں ہے اور دوسری جانب بیگم جیسے آلو کوئی سینڈوچ میں دبا ہوتا ہے بعد شادی کے یہی کہتا پھرے ہے شوہر وقتِ کنوارگی کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے [gallery640x480] [photo=https://i.pinimg.com/originals/9c/6a/ef/9c6aefabe2798beedbdac7341d402183.png]Husband wife funny, I miss you[/photo] [photo=https://lh3.googleusercontent.com/-obsIq1raTC4/Vh6gjkdMEjI/AAAAAAAAAEQ/H7k61V-Gk4k/w530-h383-n-rw/Husband%2BWife%2BBiggest%2BProblem%2BJoke%25281%2529.jpg]funny husband wife pic[/photo] [/gallery]
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

Sunoo ! Aye Mehrbaan Larki

.... سنو اے مہربان لڑکی میں اکثر سوچتا ہوں کوئی ایسا نام تم کو دوں کہ جو منسوب ہو تم سے تو تم کو جاوداں کر دے ہو کوئی نام ایسا تو جو مجسمہ حُسن فطرت ہو بہت ہی خوبصورت ہو کسی نازک پری جیسا کہ جو حُسن جہاں رنگ و بو کا استعارہ ہو تیرےملکوتی پیکر کو مگر تشبیہ کس سے دوں اگر میں گُل کہوں تم کو؟ مگر پھول تو مرجھا کے آخر سوکھ جاتے ہیں اگر تارہ کہوں تم کو؟ ستارے ٹوٹ کر لیکن فضا میں کھو جاتے ہیں کہوں قوس قزح لیکن ؟ سبھی رنگ اکٹھے مِل کر بھی تیری روح سے چھلکتی نور کی کرنوں کو نہ پہنچے حِنا کا نام دوں تم کو؟ مگر رنگ حِنا تو چار دن میں روٹھ جاتا ہے اگر بادل کہوں تم کو؟ گھٹاؤں سے سوا لیکن تیرے جزبات کی شدت ہے تمہیں ساون کہوں کیسے؟ تمھارے پیار کی بارش تو ہر موسم برستی ہے نسیم صبح کہہ دو یا کہوں باد صبا تم کو؟ مگر فطرت ہوا کی تو ازل سے بیوفائی ہے تیری وارفتگی سوچوں, سمندر کی لہر کہہ دوں ؟ مگر موجوں کی طغیانی تو اک پونم کی شب تک ہے تیری آنکھیں اگر سوچوں, تمہیں مے کا بدل کہہ دوں؟ خمار مے تو لیکن رات بھر کی بات ہوتی ہے اگر سایہ کہوں, جھونکا کہوں, خوشبو کہوں تم کو؟ مگر تم تو مجسمہ ہو بہت کچھ سوچتا ہوں میں تمھارا نام کیا رکھوں؟ کہوں جادو, چراغ راہ یا منزل کہوں تم کو؟ کہوں میں جستجو کوشش کہوں یا دل کہوں تم کو؟ شفق کہہ دوں سحر کہہ دوں یا کہہ دوں چاندنی تم کو؟ اگر خواہش کہوں یا آرزو یا زندگی تم کو؟ اگر ساحر کہوں, نشہ کہوں یا بے خودی تم کو؟ ادا کہہ دوں, وفا کہہ دوں, حیاء کہہ دوں اگر تم کو؟ اگر ساحل کہوں, کشتی کہوں یا ناخدا تم کو؟ اگر تقدیر یا انعام یا قسمت کہوں تم کو؟ اگر غنچہ کہوں ,لالہ کہوں, نرگس کہوں تم کو؟ کہوں میں جان یا جاناں یا جان جاں تم کو؟ اگر جھرنا کہوں, دریا کہوں, ساگر کہوں تم کو؟ کِرن کہہ دوں, گھٹا کہہ دوں یا پھر رِم جھِم کہوں تم کو؟ اگر جگنو کہوں,شعلہ کہوں, شبنم کہوں تم کو؟ اگر شیشہ کہوں, موتی کہوں, ریشم کہوں تم کو؟ .... یہ سارے نام تیری ذات کے پہلو سہی لیکن مگر جچتا نہیں کوئی یہ سارے نام فانی ہیں تمھارا نام ایسا ہو جو تم کو جاوداں کر دے .... تمھیں پورا بیان کردے .... سنو! اے مہربان لڑکی بہت ہی سوچ کر میں نے تمھارا نام رکھا ہے.... #محبت
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

♡♡ Shama e Mehfil ♡♡ Urdu Poetry

بہلتے کس جگہ ، جی اپنا بہلانے کہاں جاتے تری چوکھٹ سے اُٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے نہ واعظ سے کوئی رشتہ، نہ زاہد سے شناسائی اگر ملتے نے رندوں کو تو پیمانے کہاں جاتے خدا کا شکر ، شمعِ رُخ لیے آئے وہ محفل میں جو پردے میں چُھپے رہتے تو پروانے کہاں جاتے اگر ہوتی نہ شامل رسمِ دنیا میں یہ زحمت بھی کسی بے کس کی میّت لوگ دفنانے کہاں جاتے اگر کچھ اور بھی گردش میں رہتے دیدہِ ساقی نہیں معلوم چکّر کھا کے میخانے کہاں جاتے خدا آباد رکّھے سلسلہ اِس تیری نسبت کا وگرنہ ہم بھری دنیا میں پہچانے کہاں جاتے نصیرؔ اچھا ہوا در مل گیا اُن کا ہمیں ، ورنہ کہاں رُکتے ، کہاں تھمتے ، خدا جانے کہاں جاتے
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

Ishq zada

َموت بر حق ہے یہ ایمان ہے میرا لیکن تم مجھے مار کے کہتے ہو خدا نے مارا تم چراغوں کو بجھانے میں بہت ہو مشاق اور یہ الزام لگاتے ہو، ہوا نے مارا مجھ کو پہچان لو میں عشق زدہ، ہجر زدہ ہاں مرے بارے میں لکھ دو کہ وفا نے مارا بیچ کر جھوٹی مسیحائی منافعے کے لیے کتنے آرام سے کہتے ہو وبا نے مارا قتل کر پاتے مجھے کانٹے یہ جرات ان کی میں تو وہ گُل ہوں جسے دستِ صبا نے مارا کوئی مرتا ہے سڑک پر کوئی بیماری سے ہائے وہ شخص جسے چشمِ خفا نے مارا کیا ہی اچھا تھا کہ تُو چپ ہی کھڑا رہ جاتا اک مسافر تھا جسے تیری صدا نے مارا لوگ لکھیں گے مِرے بارے مرے مرنے پر ایک صحرائے محبت کو گھٹا نے مارا مرنے والا تری نفرت سے کہاں تھا فرحت میرے دل کو تو محبت کی شفا نے مارا !!
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

اے کوزہ گر

اے کُوزہ گر اس بار جو آوے میں دھریو ہر ذرّے میں اِک دِل رکھیو اور دِل میں اپنی چاہت بس ہاں چاہت میں وہ رنگ اپنا جو لاکھ چُھٹائے نہ چُھوٹے جو مال رہے پامال رہے بس مگن سا ہو اے کُوزہ گر اس بار جو آوے میں دھریو ہر ذرّے میں اِک دِل رکھیو جسے آنکھ میں ڈھلنا آتا ہو جسے بادل برکھا دِل میں سنْجونا آتے ہوں جو منظر ناظر نظر بھی ہو جو رنگ بھی ہو اور خوشبو بھی ہاں بِینا ہو بِینائی بھی سُن یار تیری شیدائی بھی اے کُوزہ گر اے کُوزہ گر
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

 

♡Yadoon k silsaly♡

رکو لہرو ا نہیں بھی سنگ لے جاؤ۔۔۔۔ میرے دامن سے کہیں دور لے جاؤ۔۔۔۔ مجھے یہ غم تیری یادوں سے۔۔۔۔ پل پل آشنا کرتے ہیں۔۔۔۔۔ مجھے جینے نہیں دیتے۔۔۔۔ مجھے رونے نہیں دیتے۔۔۔۔ نہیں دیتے مجھے سونے۔۔۔۔ مجھے الجھا کے رکھتے ہیں۔۔۔۔ بہت ہی تنگ کرتے ہیں۔۔۔ یہ میرے سنگ رہتے ہیں۔۔۔ انہیں تم ساتھ لے جاؤ۔۔۔۔۔ مجھے چند خوشیاں دے جاؤ۔۔۔ سنو لہرو میرے غموں کو سنبھل کر لے جانا۔۔۔ کے اس میں کہیں اجنبی لوگوں کی کچھ یادوں کے سلسلے ہیں۔۔۔۔۔ بے معانی وعدے ہیں اس کا کچھ احساس باقی ہے۔ کہے جو الفاظ جانے سے قبل ایک لمحہ پہلے۔۔۔۔ خداحافظ کے وہ الفاظ باقی ہیں۔۔۔۔۔
Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

WaQaS DaR

Sign in to follow this