Sign in to follow this  
Followers 0
  • entries
    276
  • comments
    2
  • views
    11,494

About this blog

Urdu shairy ki duniya. This blog has RSS of latest shairy o shairy topics from fundayforum.com.

If you are poetry lover please share here your fav poetry in comments. 

( Fundayforum.com)

fdwatermarkfd.png

Entries in this blog

WaQaS DaR

__#محبت نور ھے جاناں___ یہ جس دل میں اتر جائے اُسے معمور کر جائے سراپا رنگ کر جائے تمناؤں سے بھر جائے یہ ایسا کیف ھے جو ھر قدم پر زندگی پُر نور کرتا ھے _اُتر کر روح میں اُس کے اندھیرے دور کرتا ھے یہ وہ احساس ھے جو ھر گھڑی بھر پور ھے جاناں #محبت_ نور ھے جاناں*_ #محبت_ نور ھے جاناں_


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

ﻣﯿﺮﯼﻣﺤﺒﺖﺑﮩﺖﻋﺠﯿﺐﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺠﺮ نہیں ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽﺩﯾﺪﮐﺎﺍﺭﻣﺎﮞﻧﮩﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮩﯽ ﺍﻥ ﮐﮩﯽ ﮐﺎ ﮔﻤﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮧ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﺎﮔﻨﺎ ﻧﮧ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺟﻠﻮﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﺋﮯ ﮐﮭﻮﺋﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﻧﮧﺑﯿﮑﺮﺍﮞﺳﻤﻨﺪﺭﮨﮯﺁﻧﮑﮭﻮﮞﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﮯ ﺟﮭﻤﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺲ " ﺗﻮ " ﺟﺐ ﻧﻈﺮ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ تیریﺍﮎﻧﻈﺮ ﻣﺠﮫﭘﮧﺍﭨﮭﮯﯾﺎﻧﮧﺍﭨﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﺪﮪ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﭘﮧ ﮐﮭﭩﮏ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﯿﺮﯼﮨﻨﺴﯽﻣﯿﮟﮨﻨﺲﺩﯾﻨﺎ تیریﺗﮍﭖﭘﮧﺗﮍﭖﺟﺎﻧﺎ ❤❤ﻣﯿﺮﯼﻣﺤﺒﺖﺑﺲﺍﯾﺴﯽﮨﮯ❤❤


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں تجھ سے خوشبو کے مراسم تجھے کیسے کہیں میری سوچوں کا اُفق تیری محبت کا فُسوں میرے جذبوں کا دل تیری عنایت کی نظر کیسے خوابوں کے جزیروں کو ہم تاراج کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اب کوئی اور نہیں میری تمنا کا دل اب تو باقی ہی نہیں کچھ جسے برباد کریں تیری تقسیم کسی طور ہمیں منظور نہ تھی پھر سرِ بزم جو آئے تو تہی داماں آئے چُن لیا دردِ مسیحائی تیری دلدار نگاہی کے عوض ہم نے جی ہار دیئے لُٹ بھی گئے کیسےممکن ہے بھلا خود کو تیرے سحر سے آزاد کریں تجھ کو بُھولیں کہ تجھے یاد کریں اس قدر سہل نہیں میری چاہت کا سفر ہم نے کانٹے بھی چُنے روح کے آزار بھی سہے ہم سے جذبوں کی شرح نہ ہو سکی کیا کرتے بس تیری جیت کی خواہش نے کیا ہم کو نِڈھال اب اسی سوچ میں گزریں گے ماہ و سال میرے تجھ سے ہاریں کہ تجھے مات کریں پروین شاکر


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

کوئی ایسا جادو ٹونہ کر۔ مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو۔ یوں الٹ پلٹ کر گردش کی۔ میں شمع، وہ پروانہ ہو۔ زرا دیکھ کے چال ستاروں کی۔ کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ۔ جو کر دے بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر۔ کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے ۔ کوئی ایسا دے تعویز مجھے۔ وہ مجھ پر عاشق ہو جائے۔۔ کوئی فال نکال کرشمہ گر ۔ مری راہ میں پھول گلاب آئیں۔ کوئی پانی پھوک کے دے ایسا۔ وہ پئے تو میرے خواب آئیں۔ کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن۔ وہ کہے مبارک جلدی آ ۔ اب جیا نہ جائے تیرے بن۔ کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے ۔ جس رہ سے وہ دلدار ملے۔ کوئی تسبیح دم درود بتا ۔ جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن۔ کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اکشا دھاری سے ۔ کوئی ایسا بول سکھا دے نا۔ وہ سمجھے خوش گفتار ہوں میں۔ کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے ۔ وہ جانے ، جان نثار ہوں میں۔ کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا۔ اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں ۔ جو مرضی میرے یار کی ہے۔ اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں۔ کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ۔ جو اشک بہا دے سجدوں میں۔ اور جیسے تیرا دعوی ہے محبوب ہو میرے قدموں میں ۔ پر عامل رک، اک بات کہوں۔ یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھوں پر۔ مجھ پتھر کی اوقات ہے کیا۔ اور عامل سن یہ کام بدل۔ یہ کام بہت نقصان کا ہے۔ سب دھاگے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جو مالک کل جہان کا ہے۔


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

ﺑﺘﺎﻭ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﮧ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﭼﻨﺎﻭﺀﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻓﺎﺋﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﻭﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﻗﺎﺗﻞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺗﻢ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﺏ ﺳﻮﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﺳﺎ ﺭﻭﮒ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮﮒ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﮒ ﮐﻮ ﺑُﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻋُﻤﺮ ﺑﯿﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺭﻭﮒ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑُﮭﻮﻝ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﮒ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻠﻮ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺑﺘﺎﻭ ﺍﺏ۔۔ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺁﺷﻨﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮔُﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺰﺍ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﺑﺘﺎﻭﺀ ﺗﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﯿﮟ


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

بچھڑنے والے چلے جو ہو تو بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کتنی شامیں اداس آنکھوں میں کاٹنی ہیں___؟؟؟ کہ کتنی صبحیں اکیلے پن میں گزارنی ہیں___؟؟؟ بتا کے جاؤ کہ کتنے سورج عذاب رستوں کو دیکھنا ہے___؟؟؟ کہ کتنے مہتاب سرد راتوں کی وسعتوں سے نکالنے ہیں ؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ چاند راتوں میں وقت کیسے گزارنا ہے___؟؟؟ خاموش لمحوں میں تجھ کو کتنا پکارنا ہے_؟؟؟ بتا کے جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کتنے لمحے شمار کرنے ہیں ہجرتوں کے___؟؟؟ کہ کتنے موسم اک ایک کر کے جدائیوں میں گزارنے ہیں ؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ پنچھیوں نے اکیلے پن کا سبب جو پوچھا تو کیا کہوں گا____؟؟؟ کسی نے رستے میں روک کر جو مجھ سے پوچھا کہ پچھلے موسم میں ساےٴ ساےٴ جو اجنبی تھا ۔ ۔ ۔ !!۔ کہاں گیا ہے____ ؟؟ ؟ تو کیا کہوں گا____؟؟؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کس سے تیرا گلہ کروں گا___؟؟؟ بچھڑ کے تجھ سے حبیب . . کس سے ملا کروں گا___؟؟؟ بتا کے جاؤ کہ آنکھ برسی تو کون موتی چنا کرے گا؟ اداس لمحوں میں دل کی دھڑکن سنا کرے گا___؟؟؟؟ بتا کے جاؤ کہ موسموں کو پیام دینے ہیں____؟؟؟ یا نہیں___؟؟؟ فلک کو ، تاروں کو ، جگنوؤں کو سلام دینے ہیں___؟؟؟ یا نہیں___؟؟؟؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ کس پہ ہے اعتبار کرنا___؟؟؟ تو کس کی باتوں پہ بےنیازی کے سلسلے اختیار کرنا ؟ بتا کے جاؤ کہ اب رویوں کی چال کیا ہو___؟؟؟ جواب کیا ہو____ ؟ سوال کیا ہو____؟ عروج کیا ہو___؟ زوال کیا ہو____؟ نگاہ ، رخسار ، زلف ، چہرہ . . نڈھال کیا ہو___ ؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ میری حالت پہ چاندنی کھلکھلا پڑی تو میں کیا کروں گا____ ؟؟ بتا کے جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ میری صورت پہ تیرگی مسکرا پڑی تو میں کیا کروں گا____ ؟؟ بتا کے جاؤ کہ تم کو کتنا پکارنا ہے____؟؟؟ بچھڑ کے تجھ سے یہ وقت کیسے گزارنا ہے___؟ اجاڑنا ہے___؟ نکھارنا ہے____ ؟ بدن کو کتنا سوارنا ہے____ ؟ چلے جو ہو تو___ بتا کے جاؤ___ !! _____کہ لَوٹنا بھی ہے____ ؟؟ یا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

چــــــــــــلو اک دن رکھتے ہیں لـــــــــــڑنے کا جھگڑنے کا ماننے کا روٹھ جانے کا بــــــاقی کے دنوں میں تــــــــــــــــــــــــم چــــــــــــلو وعدہ کرو مجھ سے نا روٹھو گے نا جاو گے نا چھوڑو گے آزماو گے چــــــــــــلو وعدہ کرو مجھ سے مــــــحبت تــــــــــــــــــــم نبھاو گـــــــــــــــــے


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی بُجھ گیا دل ــ چراغ جلتے ہی کُھل گئے شہرِ غم کے دروازے اِک ذرا سی ہوا کے چلتے ہی کون تھا تُو ـ ـ کہ پھر نہ دیکھا تُجھے مِٹ گیا خواب ــ آنکھ ملتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے ماہِ شب تاب کے نکلتے ہی تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے عکسِ دیوار کے بدلتے ہی خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں چڑھ گیا زہر ــ گل مسلتے ہی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

تم اک گورکھ دهنده ہو کھیل کیا تم نے اَزَل سے یہ رَچا رکھا ہے رُوح کو جسم کے پِنجرے کا بنا کر قیدی اُس پہ پھر موت کا پہرا بھی بٹھا رکھا ہے دے کے تدبیر کے پنچھی کو اُڑانیں تم نے دامِ تقدیر بھی ہر سَمْت بچھا رکھا ہے کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تم نے ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے لامکانی کا بہرحال ہے دعویٰ بھی تمہیں نَحْنُ اَقْرَبْ کا بھی پیغام سنا رکھا ہے یہ بُرائی، وہ بھلائی، یہ جہنّم، وہ بہشت اِس اُلْٹ پھیر میں فرماؤ تو کیا رکھا ہے؟ جُرم آدم نے کِیا اور سزا بیٹوں کو ! عدل و انصاف کا مِعیار بھی کیا رکھا ہے دے کے انسان کو دنیا میں خلافت اپنی اک تماشا سا زمانے میں بنا رکھا ہے اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو سب کی نظروں سے مگر خود کو چُھپا رکھا ہے تم اک گورکھ دھندا ہو نِت نئے نقش بناتے ہو، مٹا دیتے ہو جانے کس جُرمِ تمنّا کی سزا دیتے ہو کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کَنی کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں مِلا دیتے ہو زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو خواہشِ دید جو کر بیٹھے سرِ طُور کوئی طُور ہی برقِ تجلّی سے جلا دیتے ہو نارِ نمرُود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلِیل خود ہی پھر نار کو گُلزار بنا دیتے ہو چاہِ کنعان میں پھینکو کبھی ماہِ کنعاں نُور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو بیچو یُوسُف کو کبھی مِصْر کے بازاروں میں آخرِ کار شَہِ مِصْر بنا دیتے ہو جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی بیٹھ کر دل میں اَنا الْحَق کی صدا دیتے ہو خود ہی لگواتے ہو پھر کُفْر کے فتوے اُس پر خود ہی منصُور کو سُولی پہ چڑھا دیتے ہو اپنی ہستی بھی وہ اِک روز گنوا بیٹھتا ہے اپنے دَرْشَن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو کوئی رانجھا جو کبھی کَھوج میں نکلے تیری تم اسے جھنگ کے بیلے میں رُلا دیتے ہو جستجو لے کے تمہاری جو چلے قَیس کوئی اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو جَوْت سَسّی کے اگر مَن مِیں تمہاری جاگے تم اسے تپتے ہوئے تَھل میں جلا دیتے ہو سوہنی گر تم کو مہینوال تصوُّر کر لے اس کو بِپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو خود جو چاہو تو سرِ عرش بُلا کر محبوب ایک ہی رات میں مِعراج کرا دیتے ہو تم اک گورکھ دھندا ہو آپ ہی اپنا پردہ ہو تم اک گورکھ دھندا ہو جو کہتا ہوں، مانا، تمہیں لگتا ہے بُرا سا پھر بھی ہے مجھے تم سے بہرحال گِلہ سا چُپ چاپ رہے دیکھتے تم عرشِ بریں پر تپتے ہوئے کَربَل میں مؐحمد کا نوا سا کِس طرح پلاتا تھا لہو اپنا وفا کو خود تین دنوں سے وہ اگرچہ تھا پیاسا دُشمن تو بہر طور تھے دُشمن مگر افسوس تم نے بھی فراہم نہ کِیا پانی ذرا سا ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وِراثَت مظلوم کے حصّے میں تسلّی نہ دلاسا کل تاج سجا دیکھا تھا جس شخص کے سَر پر ہے آج اُسی شخص کے ہاتھوں میں ہی کاسہ یہ کیا ہے اگر پُوچُھوں تو کہتے ہو جواباً اِس راز سے ہو سکتا نہیں کوئی شناسا تم اک گورکھ دھندا ہو حیرت کی اک دنیا ہو تم اک گورکھ دھندا ہو ہر ایک جا پہ ہو لیکن پَتا نہیں معلوم تمہارا نام سُنا ہے، نِشاں نہیں معلوم تم اک گورکھ دھندا ہو دل سے اَرمان جو نکل جائے تو جُگنُو ہو جائے اور آنکھوں میں سِمَٹ آئے تو آنسو ہو جائے جاپ یا ہُو کا جو بے ہُو کرے ہُو میں کھو کر اُس کو سُلطانیاں مِل جائیں، وہ باہُو ہو جائے بال بِیکا نہ کسی کا ہو چُھری نیچے حَلْقِ اَصغَر میں کبھی تِیر ترازُو ہو جائے تم اک گورکھ دھندا ہو کس قدر بے نیاز ہو تم بھی داستانِ دراز ہو تم بھی مرکزِ جستجوِ عالمِ رنگ و بُو دَم بہ دَم جلوَہ گر تُو ہی تُو چار سُو ہُو کے ماحول مِیں، کچھ نہیں اِلّا ہُو تم بہت دِلرُبا، تم بہت خُوبرُو عرش کی عظمتیں، فَرش کی آبرو تم ہو کونین کا حاصلِ آرزو آنکھ نے کر لیا آنسوؤں سے وُضو اب تو کر دو عطا دید کا اِک سَبُو آؤ پَردے سے تم آنکھ کے روبرو چند لمحے مِلن، دو گھڑی گفتگو نازؔ جَپتا پِھرے جا بجا کُو بہ کُو ... وَحْدَہٗ، وَحْدَہٗ، لَا شَریک لَهٗ


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے کہ اشک روکنا تم سے محال ہونا ہے ہر ایک لب پہ ہیں میری وفا کے افسانے تیرے ستم کو ابھی لازوال ہونا ہے بجا کہ خار ہیں لیکن بہار کی رت میں یہ طے ہے اب کے ہمیں بھی نہال ہونا ہے تمہیں خبر ہی نہیں تم تو لوٹ جاؤ گے تمہارے ہجر میں لمحہ بھی سال ہونا ہے ہماری روح پہ جب بھی عذاب اتریں گے تمہاری یاد کو اس دل کی ڈھال ہونا ہے کبھی توروئے گا وہ بھی کسی کی بانہوں میں کبھی تو اسکی ہنسی کو زوال ہونا ہے ملیں گی ہم کو بھی اپنے نصیب کی خوشیاں بس انتظار ہے کب یہ کمال ہونا ہے ہر ایک شخص چلے گا ہماری راہوں پر محبتوں میں ہمیں وہ مثال ہونا ہے زمانہ جس کے خم و پیچ میں الجھ جائے ہماری ذات کو ایسا سوال ہونا ہے وصی یقین ہے مجھ کو وہ لوٹ آئے گا !... اس کو بھی اپنے کیے کا ملال ہونا ہے ❤ وصی شاہ Wasi Shah


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار بھی تج بیٹھے تھے اُس ستمگر نے مگر قدر نہ جانی لوگو کس طرح بھُول گیا قول و قسم وہ اپنے کتنی بے صرفہ گئی یاد دہانی لوگو اب غزل کوئی اُترتی ہے تو نوحے کی طرح شاعری ہو گئی اب مرثیہ خوانی لوگو شمع رویوں کی محبت میں یہی ہوتا ھے رہ گیا داغ فقط دل کی نشانی لوگو ( احمد فراز ) AHMAD FRAZ


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سی نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہے نہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہو نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔ نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق کو امر کہوں ،وہ میری بات سے چڑ گئی میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے کہ عمر بھر کے ساتھ کو بدتر از ہوس کہے شجر ہجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گل رہے نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں میں کوئی پینٹنگ نہیں کی ایک فریم میں رہوں وہی جو من کا میت ہو اسی کہ پریم میں رہوں نہ یس کو مجھ پر مان تھا، نہ مجھ کو اس پہ زعم ہی جب عہد ہی کوئی نہ ہو، تو کیا غم شکستی سو اپنا اپنا راستہ خوشی خوشی بدل لیا وہ اپنی راہ چل پڑی ، میں اپنی راہ چل دیا بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اس کی دوستی اب اس کی یاد رات دن نہیں مگر کبھی کبھی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

ہر درد پہن لینا ، ہر خواب میں کھو جانا کیا اپنی طبیعت ہے ، ہر شخص کا ہو جانا اک شہر بسا لینا بچھڑے ہوئے لوگوں کا پھر شب کے جزیرے میں دل تھام کے سو جانا موضوعِ سخن کچھ ہو ، تا دیر اسے تکنا ہر لفظ پہ رک جانا ، ہر بات پہ کھو جانا آنا تو بکھر جانا سانسوں میں مہک بن کر جانا تو کلیجے میں کانٹے سے چبھو جانا جاتے ہوئے چپ رہنا ان بولتی آنکھوں کا خاموش تکلم سے پلکوں کو بھگو جانا لفظوں میں اتر آنا ان پھول سے ہونٹوں کا اک لمس کی خوشبو کا پوروں میں سمو جانا ہر شام عزائم کے کچھ محل بنا لینا ہر صبح ارادوں کی دہلیز پہ سو جانا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

جس سے چاہوں ہاتھ ملاؤں میری مرضی پھر آنکھوں سے دھوکا کھاؤں میری مرضی میرے لفظ ہیں، تم کو کیا تکلیف ہے ان سے جو بھی لکھ لوں، جس کو سناؤں، میری مرضی اس کا ہجر منانا ہی جب واجب ٹھہرا روؤں پیٹوں، ناچوں گاؤں، میری مرضی تیرے شہر میں اپنی بھی پہچان ہے کافی کچھ دن ٹھہروں، آؤں جاؤں، میری مرضی تیری باتیں لوگ سمجھتے ہیں تو سمجھیں جیسے بھی میں شعر سناؤں، میری مرضی کون سا تم بھی ساتھ چلے، جس راہ پڑا میں لوٹ آؤں یا آگے جاؤں، میری مرضی تم نے اس کا کیا چھوڑا، جو پوچھ رہے ہو اب میں جیسے دل بہلاؤں، میری مرضی روح میں کوئی ماتم برپا ہے، سو ہے نوحہ پڑھ لوں، ساز بجاؤں، میری مرضی


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

🌹 کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا میرے پیار دے وِچ او رنگ جاوے اوتھے دِل دھڑکے، ایتھے جاں جاوے او ھسّے شام نِکھر جاوے اودی زلف توں رات وِکھر جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا اُس ھتھ نال نبظ اے گنڈ جاوے اُس ھتھ نال ھتھ جے مِل جاوے مری دنیا ارش اے ہو جاوے چاہے لکھ وار ہیاتی رُل جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا او شام کہے، دن ڈھل جاوے او گیت کہے دِن چڑھ جاوے اوھدی چال تے ندیا مُڑ جاوے اوھدی اَکھ وِچ ساغر ڈُب جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا مری ذات توں دوری بُھل جاوے او تتلی وانگوں رنگ جاوے کوئی ایسا سجدہ ہو جاوے میں ھتھ چاواں، رَب مَن جاوے کوئی اِنج دا جادو دس ڈھولا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

" غالب " نظر کے سامنے حسن و جمال تھا " محسن " وہ بشر خود میں سراپا کمال تھا ہم نے " فراز " ایسا کوئی دیکھا نہیں تھا ایسا لگا " وصی " کہ وہ گڈری میں لعل تھا اب " میر " کیا بیان کریں اس کی نزاکت ہم " فیض " اسے چھو نہ سکے یہ ملال تھا اس کو " قمر " جو دیکھا تو حیران رہ گئے اے " داغ " تیری غزل تھا وہ بیمثال تھا " اقبال " تیری شاعری ہے جیسے باکمال وہ بھی " جگر " کے لفظوں کا پر کیف جال تھا بلکل تمہارے گیتوں کے جیسا تھا وہ " قتیل " یعنی " رضا " یہ سچ ہے کہ وہ لازوال تھا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﻣﺮﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﻨﻮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮔﻞ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﻮﭦ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻨﻮ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻗﺴﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﻢ ﻧﮧ ﺗﻨﮩﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﯾﻮﮞ ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺴﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺭﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﺍﮐﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﻓﺎ ﮨﮯ ﺫﺍﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﺗﻮﮌ ﺩﯼ ﺍﺱ ﻧﮯ 💔💔💔💔💔


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

مقابل ہوں جو وہ میرے تو سب کچھ وار جاتے ہیں ہم اپنی ذات کی خوشیاں اُنہی سے جوڑ جاتے ہیں وہ ہم کو جیت جاتے ہیں, ہم اُن پے ہار جاتے ہیں وہ اپنی اِک نگاہ بخشیں تو ہم کو مار جاتے ہیں ©S.S Writes


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

‏‎گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا بادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھا ۔۔۔ پھر کبھی مل جائے شاید زندگی کی بھیڑ میں جس کی باتیں پیاری تھیں اور نام کچھ اچھا سا تھا ۔۔۔!


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاضِر ہوں زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا میں بھُول بھٹک کے ہار گئی ہر بار تمہارا نام لِیا اِس عِشق کی کملی جوگن کے ہر قِصّے کا عُنوان پِیا میں پیاس سجائے آنکھوں میں سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری اب دیِپ جلائے مَن مندِر چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا یہ عشق ادب سے عاری ہیں ان نینن سے کیا بات کروں تم بھید دلوں کے جانن ہو تم پر رکھتے ہیں مان پِیا میں عشق سمندر ڈُوب مروں میں دار پہ تیرے جھول رہوں میں پریم سفر پہ نکلی ہوں کیا جانوں خِرد گیان پِیا میں خاک کی جلتی بھٹی میں سب خاک جلا کر آئی ہوں اس خاک کی فانی دنیا کا ہر سودا تو نقصان پِیا جب من سے غیر ہٹا آئی سب کاغذ لفظ جلا آئی پھر کس کو اپنا حال کہوں تُو حال میرا پہچان پِیا پھر سُورج بجھتا جاتا ہے پھر رات کا کاجل پھیلے گا تُم کاجل نینن والوں کے مَن میں ٹھہرو مہمان پِیا میں ایک جھلک کو ترسی ہوں کچھ دید نما انوار کرو میں ایک جھلک کے صدقے میں ساری تیرے قربان پِیا


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

عجب یہ حجر کا قصہ ہے عجب یہ شبِ جدائی ہے نہ میری آنکھ جھپکی ہے نہ دل نے لی اَنگڑائی ہے نہ اُنکو بھولا دل میرا نہ اُنکی یاد سے غافل کہ جسکو فرض کی مانند ہر اک پل یاد رکھنا ہو کہ جسکو قرض کی مانند ہر اک پل ساتھ رکھنا ہو بھلا کیسے بھلاتا دل کہ انکو یاد نہ کرنا وَبالِ جان بن جائے یہ سانسیں گھونٹ لی جائیں یہ آنکھیں موندھ لی جائیں جو ہوں ہم یاد سے غافل تو دھڑکن روک دی جائیں چلو یہ سب سمبھل جائیں مگر جو روح تڑپ جائے بتاو کیا کریں اُسکا کہ روح سےروح کا رشتہ ہے ازلوں سے یونہی لِپٹا وہ ہم کو بھول بھی جائیں تو ہم پےفرض ہوتا ہے اُنہیں دل کے باغیچے سے ان آنکھوں کےدریچے سے کسی مالا کی کلیوں سے کسی کوئل کی کو کو سے ہم اپنے آپ میں بھر لیں کہ ہر اک لفظ اپنے میں اُنہی کا رنگ و بو بھر لیں کہ جو بھی لفظ پرکھے گا ہمارے ہاتھ سے لکھے ہمیں بھی یاد رکھے گا کہ ذکرِ حسن جب ہو گا ہمارے لفظ کھوجے گا مگر پھر سحر میں جکڑا حوالے یوں بھی کچھ دے گا عجب وہ حجر کا قصہ تھا عجب وہ شبِ جدائی تھی نہ اسکی آنکھ جھپکی تھی نہ دل نے لی اَنگڑائی تھی مگر وہ ٹھان بیٹھا تھا اُسے لفظوں میں جَڑ دے گا محبت اَمر کر دے گا سو جَڑ ڈالا ہے ظالم نے نِصابوں میں حوالوں میں محبت کے سب بابوں میں! ©S.S Writes


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

WaQaS DaR

You loved her; You still do. You let her down and yet here you are; wanting her by your side every time you drown. You turned her cold and yet here you are; wanting her to warm up your soul. You scarred her physically and yet here you are; wanting her to stitch you emotionally. You made her cry and yet here you are; wanting her to be the reason you try. You called her shallow and yet here you are; wanting her to be your fellow. •You made her incomplete and yet here you are; wanting her to be your heartbeat. You broke her heart and yet here you are; wanting to be there when she falls apart. You destroyed her and yet here you are; wanting to mend her. You let her go and yet here you are; wanting her to say hello. You lost her and yet here you are; wanting to find her. You were not sure about her and yet here you are; wanting to spend every minute with her You know it’s over and yet here you are; wanting to start over You know she is never coming back and yet here you are; wanting her to rollback. You denied your love for her and yet here you are; wanting her to know how much you need her. You played with her feelings and yet here you are; wanting her to laugh under your ceiling. You called her a mistake and yet here you are; wanting her to cut your wedding cake. You thought you didn’t love her ever and yet here you are; admitting you want her forever.


Click to View the full poetry article at (fundayforum.com)

Sign in to follow this  
Followers 0